Anaa Parast By Hamna Tanveer
Anaa Parast By Hamna Tanveer novel is one of the best novels of Urdu. Anaa Parast novel show that how sometimes our close people and relations leave us in difficult times. When we need someone they don’t help us. They just need to get rid of us.
Hamna Tanveer has written many novels and very interesting novels. Her novels always appeal to novel readers. She writes in a very beautiful manner which is easy to understand and also amazing.
"جلدی کرو مجھے دیر ہو رہی ہے... "
وہ گیٹ کے وسط میں کھڑی اسے گھور رہی تھی۔
"ہاں بس آ گئی.... "
عائشہ اپنا نقاب ٹھیک کرتی باہر نکل آئی۔
جونہی وہ گیٹ سے باہر نکلی نظر سڑک کے اس پار کھڑے ایک شخص سے جا ٹکرائی۔
آنکھوں میں شناسائی کی رمق ابھری۔
دور کھڑے شخص کی آنکھیں اسے دیکھ کر چمکنے لگیں۔
"یار عجیب انسان ہے ویسے یہ... "
حنا دھیرے سے بڑبڑائی۔
چند لمحے یونہی سرک گئے کہ عائشہ نظروں کا زاویہ موڑتی حنا کو دیکھنے لگی۔
"کیا مطلب ہے اس سے تمہارا؟"
آنکھوں کی پتلیاں سکیڑے وہ اسے گھور رہی تھی۔
"مطلب وہ چلا گیا.... "
وہ اسے پیچھے کرتی ہوئی بولی۔
عائشہ نے گردن گھما کر دیکھا تو وہ مانوس انسان جا چکا تھا۔
"ٹھیک...تم بتاؤ عجیب سے کیا مراد تھا؟"
وہ ابھی بھولی نہیں تھی اس کی بات کو۔
"مطلب... تم نقاب میں ہو پھر کیا دیکھنے آتا ہے وہ؟"
وہ آہستہ سے بولی۔
"تم نہیں سمجھو گی.... "
عائشہ مسکراتی ہوئی چلنے لگی۔
"تم ہمیشہ یہی کہتی ہو.... "
وہ اس کے ساتھ قدم اٹھاتی ہوئی بولی۔
"ہاں تو جب تمہیں ہماری محبت سمجھ ہی نہیں آےُ گی تو میں کیا سمجھاؤں تمہیں... "
وہ مصنوعی خفگی سے بولی۔
"ٹھیک ہے تم جیتی میں ہاری.... "
وہ ہتھیار ڈالتی ہوئی بولی۔
عائشہ اپنی کسی سوچ پر مسکرا دی۔
~~~~~~~~
"کیوں بھائی کس کا انتظار ہو رہا ہے؟"
عقب سے کسی نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا۔
وہ جو ریلنگ پر ہاتھ رکھے جھکا ہوا تھا اس اچانک حملے پر گھبرا گیا۔
"کیا یار ڈرا دیا مجھے.... "
وہ پیچھے ہوتا گھورنے لگا۔
"لگتا ہے بھابھی آئی نہیں آج؟"
وہ ساتھ والی چھت پر دیکھ رہا تھا۔
"تیرا کیا کام ہے یہاں؟"
فہد اس کے سامنے آ گیا۔
"میں تو بس تجھے ملنے آیا تھا۔"
ابتسام شانے اچکاتا پیچھے ہو گیا۔
"اچھا چل پھر روم میں چلتے ہیں.... "
وہ ایک نظر چھت پر ڈالتا چلنے لگا۔
"چہرے پر چھائی مایوسی سب بتا رہی ہے ویسے... "
وہ دونوں کمرے میں آ چکے تھے۔
"جو کام ہے وہ بول.... فضول کی بکواس مت کر...."
فہد نے کشن مارا جو سیدھا ابتسام کے منہ پر جا لگا۔
"بڑا کوئی بے وفا انسان ہے تو.... ویسے میں تیرے رزلٹ کا بتانے آیا تھا۔"
وہ کرسی سنبھال چکا تھا۔
"کیا بنا پھر؟"
وہی ہمیشہ کی مانند لاپرواہ سا انداز۔
"ایک نمبر.... "
ابتسام نے سرد آہ بھری۔
"یار نہ کر اتنا برا بھی نہیں تھا پیپر... "
وہ یکدم سیدھا ہوا۔
چہرے پر حیرانی کا عنصر نمایاں تھا۔
"ایک نمبر سے رہ گیا.... تھوڑا سا اور پڑھ لیتا تو پاس تو ہو جاتا...."
وہ تاسف سے فہد کو دیکھ رہا تھا۔
"ابو تو اسی بات پر خوش ہو جائیں گے کہ باقی سب میں تو پاس ہوں.... "
وہ قہقہ لگاتا ٹوکری سے سیب اٹھانے لگا۔
ابتسام نے مسکرانے پر اکتفا کیا۔
~~~~~~~~
عائشہ پاؤں اوپر کئے کرسی پر بیٹھی تھی۔
ذہن اسے ماضی کی کچھ خوبصورت یادیں میں لے جا رہا تھا۔
"عائشہ دروازے پے دیکھو کون ہے.... "
کچن سے آواز سنائی دی تو وہ دوپٹہ سنبھالتی کمرے سے نکل آئی۔
صحن عبور کرتی ہوئی وہ دروازے پر جا کھڑی ہوئی۔
سامنے ایک غیر شناسا انسان کھڑا تھا۔
لمبا قد, صاف رنگ پر ہلکی بڑھی ہوئی شیو, بال جیل لگا کر کھڑے کر رکھے تھے۔ سیاہ آنکھیں عائشہ پر تھیں۔
"جی؟"
عائشہ نا سمجھی سے اس نوجوان کو دیکھ رہی تھی۔
اس سے قبل کہ وہ کچھ بولتا صبیحہ بیگم ادھر آ گئیں۔
"ارے بیٹا تم,, کیسے ہو؟"
وہ مسکراتی ہوئی گویا ہوئیں۔
"میں ٹھیک ہوں آنٹی آپ کیسی ہیں؟"
وہ چاہ کر بھی عائشہ سے نظریں نہ ہٹا سکا۔
"میں بھی بلکل ٹھیک ہوں... آ جاؤ اندر..."
وہ راستہ دیتی ہوئی بولیں۔
عائشہ کی پیشانی پر شکنیں نمایاں تھیں۔
"جاؤ تم چاےُ بناؤ... "
وہ عائشہ سے کہتی اندر چل دیں۔
وہ شانے اچکاتی باورچی خانے کی سمت چل دی۔
"کہاں گم ہو؟ کب سے آوازیں دے رہی ہوں تمہیں.... "
صبیحہ بیگم اسے شانے سے ہلاتی ہوئی بولیں۔
وہ یاد ایک دھواں کی مانند غائب ہو گئی۔
"کہیں نہیں... "
وہ جیسے اب ہوش میں آئی تھی۔
"کھانا ٹھنڈا ہو گیا ہے.... پتہ نہیں کن سوچوں میں گم رہتی ہو۔"
وہ بڑبڑاتی ہوئیں کمرے سے باہر نکل گئیں۔
عائشہ نفی میں سر ہلاتی مسکراتے ہوئے باہر نکل آئی۔
~~~~~~~~
"امی آپ آج کام پر مت جائیں میں چلی جاتی ہوں...."
رانیہ متفکر سی بولی۔
"تمہیں بھیج تو دوں لیکن...."
نقاہت کے باعث وہ خاموش ہو گئیں۔
"میں بیگم صاحبہ کو بتا دوں گی کہ آپ کی طبیعت ناساز تھی...."
وہ چادر ڈھونڈنے لگی۔
"تمہیں کیسے معلوم ہوگا کون سی چیز کس جگہ رکھنی ہے؟"
وہ مطمئن نہیں تھیں۔
"میں کر لوں گی آپ پریشان مت ہوں.... اور ہاں دوائی میں واپس آ کر کھلاؤں گی خود سے مت کھائیے گا۔"
وہ تنبیہ کرتی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔
"ہاں ہاں... ٹھیک ہے۔ ابھی تو کھلائی ہے تم نے مجھے کیا شوق ہے بار بار منہ کڑوا کرنے کا۔"
وہ برا مان گئیں۔
"ٹھیک ہے پھر میں چلتی ہوں... "
وہ دروازے کی جانب بڑھ رہی تھی۔
چہرے پر معدوم سی مسکراہٹ تھی۔
چند ساعتیں بیت گئیں وہ حویلی کے گیٹ کے باہر کھڑی تھی۔
نجانے کس سوچ میں گم تھی وہ۔
"کچھ چائیے تمہیں... "
چوکیدار کی آواز نے اس تسلسل کو توڑا۔
"ہاں... وہ مجھ.. مجھے اندر جانا تھا۔"
وہ چادر درست کرتی ہوئی بولی۔
"تم.... "
وہ بغور اسے دیکھتا خاموش ہو گیا۔
"ٹھیک ہے جاؤ.... "
وہ گیٹ وا کر چکا تھا۔
رانیہ خاموشی سے اندر آ گئی۔
چہرے پر اب ایک اضطراب سا پھیل چکا تھا۔
"مجھے آنا ہی نہیں چاہیے تھا شاید.... ایک چھٹی ہو جاتی تو قیامت تو نہیں آنی تھی۔"
وہ اندر بڑھتی خود کو کوسنے لگی۔
~~~~~~~~
عائشہ دم سادھے اس ڈائری کو دیکھ رہی تھی۔
یہ صرف ایک ڈائری ہی نہیں بلکہ اس کی ہم راز تھی۔
ایک سرد آہ بھری وہ ڈائری کے صفحے پلٹنے لگی۔
کچھ سوچ کر اس نے قلم اٹھایا اور لکھنے لگی۔
"آپ آج بہت اچھے لگ رہے تھے... "
لکھتے لکھتے لب مسکرانے لگے۔
"حنا کو یہ سب سمجھ نہیں آتا لیکن میں تو سمجھتی ہوں.... آپ کو بھی اور آپ کی محبت کو بھی۔"
مسکراہٹ مزید گہری ہوتی چلی گئی۔
"بس یہی دعا ہے میری سب ٹھیک ٹھیک ہو جاےُ...."
پیشانی پر تین لکریں ابھریں۔
وہ قلم اٹھا چکی تھی۔
اذان کی آواز سنی تو خاموشی سے ڈائری بند کر کے رکھی اور وضو کرنے چل دی۔
~~~~~~~~
"تمہاری ماں کیوں نہیں آئی آج؟"
وہ تفتیشی انداز میں اسے دیکھ رہی تھیں۔
"وہ...امی کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی..."
رانیہ خواہ مخواہ ہی چادر درست کرنے لگی۔
"پچھلے ہفتے بھی ٹھیک نہیں تھی.... کچھ زیادہ ہی بیمار نہیں رہنے لگی...."
وہی جانچنے والا انداز۔
"کمزوری ہو گئی ہے شاید اس لیے.... "
رانیہ سے کوئی جواب بن نہیں رہا تھا۔
"اچھا اچھا.... جاؤ جا کر پہلے میرے کمرے کی صفائی کرو پھر بتاؤں گی کیا کرنا ہے۔"
وہ ناگواری سے بولیں۔
"جی اچھا.... "
وہ سر جھکائے کمرے کی سمت چل دی۔
"امی... "
فہد کی آواز پر وہ چونک کر اسے دیکھنے لگی۔
نظروں کا تبادلہ ہوا۔
فہد کے لب دھیرے سے مسکراےُ۔
"ت... تم کب آئی یہاں؟"
وہ جو دروازے میں کھڑا تھا قدم بڑھا کر اندر آ گیا۔
"وہ... وہ آج امی کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو میں آگئی۔"
دوپٹہ سر سے سرک گیا تو وہ فوراً اسے درست کرنے لگی۔
"میں چھت پر انتظار کر رہا تھا.... "
وہ نگاہیں اس کے سراپے پر جماےُ بول رہا تھا۔
"آ... آپ یہاں سے چلے جائیں بیگم صاحبہ نے دیکھ لیا تو...."
گھبراہٹ اس کے چہرے سے عیاں تھی۔
"تم پہلے میری بات کا جواب دو... "
وہ بضد ہوا۔
"پتہ نہیں مجھے یاد نہیں... "
رانیہ نے ٹالنا چاہا۔
دونوں کے بیچ فاصلہ ہنوز برقرار تھا۔
"اچھا تو اب تم میری باتیں بھی بھولنے لگی ہو؟"
وہ سینے پر بازو باندھتا ہوا بولا۔
"مہ... میں بعد میں بتا دوں گی لیکن ابھی جائیں پلیز.... "
وہ التجائیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
"ایسے تو تم اور بھی معصوم لگتی ہو..."
وہ یک ٹک اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔
سرخ و سپید رنگت پر پریشانی ڈیرے جماےُ ہوےُ تھی۔
وہ لب کاٹتی کبھی فہد کو دیکھتی تو کبھی دروازے کو۔
"اچھا اچھا ٹھیک ہے جا رہا ہوں...اب تم رونا مت... "
وہ ہلکا سا مسکرایا۔
رانیہ خاموش رہی۔
وہ ایک نظر اسے دیکھ کر کمرے سے نکل گیا۔
اس کے جاتے ہی رانیہ نے سکھ کا سانس لیا۔
"بھولتی تو میں کچھ بھی نہیں ہوں... "
وہ خود کلامی کرنے لگی۔
"اس سے پہلے بیگم صاحبہ آئیں میں یہ ٹیبل صاف کر دوں ورنہ ڈانٹ پڑے گی۔"
وہ گھٹنوں کے بل بیٹھتی ہوئی بولی۔
~~~~~~~~
"عائشہ بیٹھو مجھے کچھ بات کرنی ہے تم سے... "
وہ پرسوچ انداز میں بولیں۔
"جی امی... "
وہ کہتی ہوئی ان کے پاس بیٹھ گئی۔
"تمہیں تو معلوم ہی ہے کہ تمہارے ابو نے آصف کے ساتھ تمہارا رشتہ کیا تھا لیکن اب زکیہ بھی اصرار کر رہی ہے.... تم مجھے بتاؤ کس کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہو آصف کے ساتھ یا پھر؟"
وہ بات ادھوری چھوڑ کر اسے دیکھنے لگیں۔
"امی نہ میں آصف سے شادی کروں گی نہ ہی وہاب سے... "
وہ قطعیت سے بولی۔
"کیا مطلب ہے تمہارا؟"
وہ یکدم غصے میں آ گئیں۔
"مجھے یہ دونوں پسند نہیں۔"
وہ منہ موڑتی ہوئی بولی۔
"شادی تو ان دونوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ہی کرنی ہے تمہیں خود بتا دو گی تو اچھا ہوگا۔"
وہ ایک ایک لفظ چبا کر بولیں۔
"آصف کو آپ جانتیں نہیں کیا؟ امی کون سی برائی ہے جو اس میں نہیں ہے؟....کیا جوڑ بنتا ہے ہمارا؟"
وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے انہیں دیکھ رہی تھی۔
"تمہاری یہ باتیں مجھے بلکہ سمجھ نہیں آ رہیں... کہنا کیا چاہتی ہو تم؟"
وہ جیسے اس موضوع سے جاں چھڑانا چاہ رہی تھیں۔
"امی مجھے عمر اچھا لگتا ہے.... "
وہ دھیرے سے منمنائی۔
"تمہارا دماغ خراب تو نہیں ہو گیا؟"
وہ متحیر سی اسے دیکھ رہی تھیں۔
"امی...."
وہ کہنا چاہتی تھی لیکن الفاظ نے ساتھ نہ دیا۔
"میں تمہیں مار دوں گی عائشہ اگر دوبارہ یہ بات اپنے منہ سے نکالی تو... "
وہ طیش میں آ گئیں۔
"لیکن امی اس میں کیا برائی ہے؟"
وہ احتجاجاً کھڑی ہو گئی۔
میں تمہاری شادی عمر کے ساتھ ہرگز نہیں کروں گی.... اور یہ بات تم اپنے دماغ میں بٹھا لو تو بہتر ہوگا تمہارے حق میں.... "
آواز دھیرے دھیرے بڑھتی جا رہی تھی۔
"آپ کچھ بھی کہہ لیں میں شادی کروں گی تو صرف عمر سے.... "
وہ آنکھوں میں نمی لئے بول رہی تھی۔
"مجھے مجبور مت کرو کہ میں تمہارے ساتھ سختی کروں..."
وہ اس کی بازو دبوچتی ہوئی بولیں۔
عائشہ کراہ کر انہیں دیکھنے لگی۔
دو موتی ٹوٹ کر رخسار پر آ گرے۔
"اگر تم ایسے نہیں مانو گی تو میں اپنے طریقے سے سمجھا لوں گی.... تم اچھے سے جانتی ہو تمہارا باپ برادری سے باہر تمہاری شادی نہیں کرے گا۔"
وہ قہر برساتی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھیں۔
"کچھ بھی ہو جاےُ اسی بستی میں جانا ہے تمہیں... اس لیے بہتر یہی ہوگا کہ تم عمر کے خواب نہ دیکھو... "
وہ جھٹکے سے اسے پیچھے کرتی چل دیں۔
وہ ڈبڈباتی آنکھوں سے انہیں جاتا دیکھنے لگی۔
"مر جاؤں گی لیکن کسی اور سے شادی نہیں کروں گی۔"
وہ ہاتھ کی پشت سے رخسار رگڑتی ہوئی بولی۔
"مجھے عمر سے بات کرنی ہوگی...."
وہ بد حواسی کے عالم میں کمرے سے باہر نکل گئی۔
"مجھے عمر کو بتانا ہوگا سب.... "
آنسو اس کے رخسار کو بھگو رہے تھے۔
~~~~~~~~
وہ ہاتھ مسلتی کمرے میں داخل ہوئی۔
"کہیں وہ اندر نہ ہوں... "
وہ لب کاٹتی کمرے میں نگاہ دوڑانے لگی۔
"لگتا ہے باہر ہیں... "
وہ سانس خارج کرتی آگے بڑھ گئی۔
"اب میں آرام سے صفائی کر سکوں گی... "
وہ مسکراتی ہوئی قالین پر گری شرٹ اٹھانے لگی۔
فہد کے پرفیوم کی خوشبو وہ پہچان نہ پاتی ایسا ممکن نہیں تھا۔
اس نے شرٹ چہرے کے قریب کی۔
ایک سانس اندر کھینچ کر اس کی خوشبو کو اپنے اندر اتارا۔
"کیسا عجیب سا رشتہ ہے نہ یہ... "
وہ افسردگی سے اس کی شرٹ کو دیکھنے لگی۔
"سب جانتے ہوےُ بھی میں خود کو روک نہیں پاتی... "
آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر گئیں۔
"شاید انسان کا اختیار نہیں ہوتا اس جذبے پر.... شاید سب میری ہی مانند اتنے ہی بے بس ہوتے ہیں۔"
وہ شرٹ تہ لگانے لگی۔
دونوں ہاتھوں سے آنکھیں رگڑ کر وہ اپنے کام میں محو ہو گئی۔
فہد نجانے کب وہاں آیا رانیہ کو خبر ہی نہ ہوئی۔
وہ دروازے سے ٹیک لگائے کھڑا تھا نگاہیں رانیہ کے سراپے پر تھیں۔
"اس کمرے میں زیادہ اچھی لگتی ہو ویسے تم مجھے... "
چند لمحے خاموشی کی نذر ہونے کے بعد آخر وہ بول پڑا۔
"آ... آپ... آپ کب آےُ؟"
رانیہ کی زبان لڑکھڑا گئی۔
"جب تم میرے سٹڈ سیٹ کر رہی تھی۔"
چہرے پر بھرپور طمانیت تھی۔
"آپ کو کچھ چائیے تھا؟ مجھے دس منٹ اور لگیں گے؟"
وہ دونوں ہاتھ مسلتی اسے دیکھنے لگی۔
سیاہ شرارتی لٹ چہرے پر جھول رہی تھی۔
"ہاں مجھے تو بہت ضروری کام ہے... "
چہرے پر شرارت نمایاں تھی۔
"صرف تھوڑا سا ٹائم لگے گا... "
وہ روہانسی ہو گئی۔
فہد کے چہرے پر مسکراہٹ رینگ گئی۔
"پلیز صرف دس منٹ... بس آپ کے شوز سیٹ کرنے ہیں۔"
وہ منتظر نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
"اور اگر میں کہوں کہ میرے سامنے کروں پھر؟"
وہ کہتا ہوا صوفے پر براجمان ہو گیا۔
"آ... آپ کے سامنے میں کیسے کروں گی؟"
وہ انگلیاں مروڑتی سر جھکا گئی۔
"ہاں تم اپنا کام کرو... میں اپنا کام کرنے لگا ہوں... "
وہ مصروف سے انداز میں کہتا لیپ ٹاپ کی اسکرین کھولنے لگا۔
"پلیز نہ.... "
وہ ملتجائیہ انداز میں بولی۔
"میں تمہیں ڈسٹرب تو نہیں کر رہا.... "
وہ معصومیت سے اسے دیکھنے لگا۔
"لیکن ایسے مجھ سے کام نہیں ہوگا نہ..."
وہ نروٹھے پن سے بولی۔
"ٹھیک ہے صرف دس منٹ... "
اس سے زیادہ وہ اسے تنگ نہیں کرنا چاہتا تھا۔
"جی دس منٹ.... "
رانیہ کا چہرہ کھل اٹھا۔
"گڈ بائے...."
وہ مسکراہٹ اچھالتا باہر نکل گیا۔
"بہانے ڈھونڈتے ہیں مجھے تنگ کرنے کے... "
وہ نفی میں سر ہلاتی مسکراتے لگی۔
~~~~~~~~
"عمر سے بات ہو گئی؟"
حنا متجسس تھی۔
"ہاں... "
مختصر سا جواب آیا۔
"کیا ہوا؟ کیا کہا عمر نے؟"
حنا اس کی بازو ہلاتی ہوئی بولی۔
"عمر نے کہا ہے کہ وہ اپنی امی کو بھیجیں گے... "
وہ یاس سے حنا کو دیکھنے لگی۔
"اور تمہارے امی ابو رضامند ہو جائیں گے؟"
وہ بھی فکرمند تھی۔
"ہو سکتا ہے.... عمر کہہ رہے تھے وہ سعودیہ جا کر اپنے بھائی سے کہیں گے پھر وہ وہاں ابو سے بات کریں گے۔"
وہ فون اس کی جانب بڑھاتی ہوئی بولی۔
"مجھے امید ہے سب ٹھیک ہو جاےُ گا..."
حنا اسے گلے لگاتی ہوئی بولی۔
"ہاں مجھے الله پر پورا بھروسہ ہے,, مجھے یقین ہے ابو مان جائیں گے۔"
وہ پر امید دکھائی دے رہی تھی۔
"ایک بات پوچھوں عائشہ؟"
وہ دونوں کلاس کی جانب بڑھ رہیں تھیں۔
"ہاں پوچھو... "
وہ کھوےُ کھوےُ سے انداز میں بولی۔
"تمہیں لگتا ہے عمر رشتہ بھیجے گا؟"
وہ متفکر تھی۔
عائشہ لمحہ بھر کو خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔
"ہاں مجھے پورا یقین ہے عمر کی محبت پر,,, وہ بھی میرے بغیر نہیں رہ سکتے اور تم دیکھنا وہ اپنی بات پر قائم رہیں گے۔"
وہ معدوم سا مسکرائی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
"چلو اب جلدی ورنہ ڈانٹ پڑے گی سر سے...."
عائشہ گھورتی ہوئی تیز تیز قدم اٹھانے لگی۔
حنا منہ بسورتی اس کے عقب میں چلنے لگی۔
~~~~~~~~
"کس کو سوچ رہے ہو؟"
ابتسام اس کے ہاتھ سے سیگرٹ لیتا ہوا بولا۔
"شرم نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے لیکن تمہارا تو دور دور تک کوئی واسطہ ہی نہیں اس سے...."
وہ جی بھر کے بد مزہ ہوا۔
"دراصل ساری تجھ میں آ گئی نہ تو میرے لئے بچی ہی نہیں... "
وہ معصومیت سے کہتا سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا۔
فہد ٹراؤذر کے ساتھ گرے ٹی شرٹ پہنے ہوئے تھا,, بال ماتھے پر منتشر تھے, گندمی رنگ پر بڑھی ہوئی شیو غضب ڈھا رہی تھی۔
"بکواس کروا لو تم سے بس... "
وہ ہنکار بھر کر دوسری سیگرٹ سلگانے لگا۔
"گریجویشن ہوگیا رانیہ کا؟"
ابتسام ٹانگ پے ٹانگ چڑھاتا ہوا بولا۔
"ہاں..."
مختصر سا جواب آیا۔
"تیرے والا حال تو نہیں؟"
ابتسام کا قہقہ سنائی دیا۔
فہد نے گھورنے پر اکتفا کیا۔
"سامیہ آئی تھی آج.... عجیب بیوقوف سی لڑکی ہے۔"
چند پل کی خاموشی کو فہد نے توڑا۔
"اوہ تمہاری منگیتر.... "
ابتسام کے لہجے میں شوخی تھی۔
"کوئی منگیتر نہیں ہے وہ میری.... خود ہی کہتی رہتی ہے سب کو۔ گواہ لے کر آےُ نہ۔"
وہ کش لیتا ہوا بولا۔
سرمئی دھواں ہوا میں معلق ہو گیا۔
ایش ٹرے بھر چکا تھا لیکن فہد کی ٹینشن جوں کی توں برقرار تھی۔
"ہاں تو ٹینشن کیا ہے؟ وہ تو اکثر آتی ہے۔"
ابتسام الجھ کر اسے دیکھنے لگا۔
"رانیہ کا سوچ رہا تھا۔"
وہ حد درجہ سنجیدہ تھا۔
"تو بھی جانتا ہے اچھے سے کہ جو سوچ رہا نا ممکن ہے۔"
وہ ٹیک لگاتا ہوا بولا۔
کمرے میں سیگرٹ کی بو زور پکڑ چکی تھی۔
"اگر ایسا فضول ہی بولنا کے تو وہ دروازہ ہے سامنے جا سکتا ہے تو... "
وہ جو پہلے ہی فکرمند تھا ابتسام کی بات پر مزید پریشان ہو گیا۔
"اچھا مجھے تو معلوم ہی نہیں تھا کہ دروازہ وہاں ہے.... "
وہ خفگی سے بولا۔
"کھانے میں کیا بنا ہے؟"
فہد نے موضوع تبدیل کیا۔
"تیرے گردے... "
وہ کہاں سنجیدہ ہونے والا تھا۔
"اٹھ....دفع ہو.... عزت راس نہیں تجھے۔"
وہ تپ کر کہتا اسے بازو سے پکڑ کر دروازے تک لا چکا تھا۔
"تیری صحبت کا اثر ہے میرا کیا قصور؟"
وہ مظلومیت سے کہتا باہر نکل گیا۔
اپنے عقب میں اسے زور سے دروازہ بند کرنے کی آواز سنائی دی۔
فہد دروازے سے ٹیک لگائے سامنے کھڑکی کو گھورنے لگا۔
"پتہ نہیں کیا ہوگا... "
وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا بستر پر گر گیا۔
~~~~~~~~
"امی میری پاکٹ منی؟"
عائشہ بیگ شانے پر ڈالے انہیں دیکھ رہی تھی۔
"بند ہے اب سے... جب تک تم میری بات سمجھ نہیں جاتی۔"
وہ تلخی سے گویا ہوئیں۔
"امی ایک چھوٹی سی بات کیوں سمجھ نہیں آ رہی آپ کو؟"
وہ جھنجھلا کر بولی۔
"تمہیں کیوں سمجھ نہیں آتا جب جانتی ہو کہ تمہارے ابو برادری سے باہر تمہارا رشتہ نہیں کریں گے پھر کیوں فضول کی ضد کر رہی ہو؟"
وہ کہتی ہوئیں کھڑی ہو گئیں۔
"وہ کوئی غیر تو نہیں ہیں آپ کے رشتے دار ہیں پھر کیا برائی ہے اس رشتے میں؟"
عائشہ نے نرمی سے سمجھانا چاہا۔
"میری ماں مت بنو تم... جو کہا ہے مان لو وہی اور بھول جاؤ عمر کو ایسا کبھی نہیں ہوگا۔"
بولتے بولتے چہرے پر سختی در آئی۔
"کاش امی آپ صحیح کے ساتھ کھڑی ہوتیں تو میں بھی آپکی بات مان لیتی..."
وہ تاسف سے دیکھتی الٹے قدم اٹھانے لگی۔
"تمہیں شرم آنی چائیے ایسی باتیں کرتے ہوئے....دو چھوٹی بہنیں ہیں تمہاری کیا اثر پڑے گا ان پر؟"
اب کی بار انہوں نے طریقہ بدلا۔
"امی میں نے کچھ غلط نہیں کیا نہ ہی غلط مانگ رہی ہوں... اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے تو پھر آپ لوگ کیوں نہیں؟ ہماری محبت بہت پاک ہے بہت... صرف ایک بار دیکھا ہے عمر نے مجھے,,,جو عزت وہ مجھے دیں گے یہ ان پڑھ لوگ نہیں دے سکتے۔ یہاں کے لوگوں کی جہالت سے آپ بھی اچھے سے واقف ہیں۔"
وہ نا چاہتے ہوئے بھی تلخ ہو گئی۔
اس سے قبل کہ وہ مزید کچھ بولتی صبیحہ بیگم کے تھپڑ نے اس کے الفاظ کا گلا گھونٹ دیا۔
وہ دائیاں ہاتھ رخسار پر رکھے نم آنکھوں سے انہیں دیکھنے لگی۔
"اپنی جان عزیز ہے نہ تو یہ بے جا ضد چھوڑ دو... اور جاؤ کالج دیر ہو رہی ہے۔"
وہ ناگواری سے گویا ہوئیں۔
تکلیف ان کے تھپڑ نے نہیں لہجے نے دی تھی۔
عائشہ اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹتی دروازے کی جانب بڑھ گئی۔
"کچھ تو کرنا پڑے گا ورنہ یہ لڑکی مجھے یونہی تنگ کرتی رہے گی... "
وہ پرسوچ انداز میں کہتیں باورچی خانے کی سمت چل دیں۔
"کیا ہوا تمہیں؟"
حنا ہق دق سی اسے دیکھ رہی تھی۔
سرخ انگارہ بنی آنکھیں اپنی داستاں آپ سنا رہی تھیں۔
"کچھ نہیں... "
وہ نظریں چراتی آگے چل دی۔
"یار بتاؤ تو... "
وہ متفکر سی بولی۔
"میں نہیں کر سکتی کسی اور سے شادی... میں کیسے سمجھاؤں امی کو مجھے سمجھ نہیں آتا... "
وہ سر جھکائے بولتی جا رہی تھی۔
"کیا آج پھر سے کچھ ہوا ہے؟"
حنا اس کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ رہی تھی۔
"میرے بس میں نہیں ہے۔ میں عمر سے محبت کرنا ترک نہیں کر سکتی,, میرا اختیار نہیں ہے۔ میں بہت مجبور ہوں چاہ کر بھی نہیں کر سکتی ایسا.... "
وہ ہچکیاں لیتی بول رہی تھی۔
"اچھا تم پریشان مت ہو.... کلاس کا ٹائم ہو رہا ہے تم پہلے واش روم چل کر منہ دھو لو... ایسے سب کو معلوم ہو جاےُ گا۔"
وہ اس کا شانہ تھپتھپاتی ہوئی بولی۔
عائشہ سر ہلاتی اس کے ہمراہ چلنے لگی۔
~~~~~~~~
"آج پھر تم آئی ہو؟"
وہ ناگواری سے اسے دیکھ رہی تھیں۔
"ثناء بی بی نے بلایا تھا... "
جھکا ہوا سر مزید جھک گیا۔
"تمہارا یہاں روز روز آنا جانا مجھے بلکل پسند نہیں..."
وہ تلخی سے کہتی چلنے لگی۔
رانیہ اپنا سا منہ لے کر رہ گئی۔
"میں اپنی مرضی سے تو نہیں آئی نہ... "
وہ منمناتی ہوئی چلنے لگی۔
"اتنی دیر کیوں لگا دی تم نے؟"
وہ پیشانی پر بل ڈالے اسے دیکھ رہی تھی۔
"و...وہ... "
رانیہ مناسب عذر تلاش کرتی اندر آ گئی۔
"اچھا خیر چھوڑو.... لو اب بناؤ میری پریکٹیکل کی کاپی۔"
وہ اس کے سامنے کتابیں رکھتی ہوئی بولی۔
"رکو... "
اس سے قبل کہ رانیہ کتاب اٹھاتی ثناء بول اٹھی۔
"جی؟"
وہ نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔
"ہاتھ دھو کر آؤ پہلے... اور نہا کر آئی ہو نہ تم؟"
وہ ناگواری سے اس کا جائزہ لے رہی تھی۔
رانیہ کی آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر گئیں۔
"جی..."
وہ کہہ کر واش روم کی جانب بڑھ گئی۔
"جلدی بنانا... ویسے تم اتنی اچھی ڈائیاگرامز کیسے بنا لیتی ہو؟"
وہ صوفے پر گرنے کے سے انداز میں بیٹھی۔
رانیہ کتابیں لے کر زمین پر بیٹھ چکی تھی۔
"مجھے بچپن سے ہی شوق تھا... "
وہ محو سے انداز میں بولی۔
"ویسے مجھے بلکل بھی نہیں پسند یہ..."
وہ ناگواری سے کہتی لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلانے لگی۔
رانیہ خاموشی سے اپنا کام کرنے لگی۔
"کیا میں اپنے ساتھ گھر لے جاؤں؟ ابھی بہت کام باقی ہے؟"
رانیہ فکرمند سی گھڑی کو دیکھتی ہوئی بولی۔
"گھر... پتہ نہیں اچھے سے صاف کرتے بھی ہو گے یا نہیں,,, سمیل بھی ہوتی ہوگی...نہ.. نہیں تم گھر مت لے جاؤ کل دوبارہ آ جانا اور یہاں میرے سامنے بنانا۔"
وہ نیل پینٹ اٹھاتی ہوئی بولی۔
"ٹھیک ہے میں آ جاؤں گی... کہاں رکھنا ہے ان کتابوں کو؟"
وہ کھڑی ہوتی ہوئی بولی۔
"وہاں ریک میں رکھ دو... "
ثناء آنکھیں چھوٹی کئے اپنے ناخن کو گھور رہی تھی جس پر ابھی اس نے نیل پینٹ لگائی تھی۔
"میں چلتی ہوں... "
وہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل آئی۔
وسیع راہداری میں دوپہر کے اس وقت کوئی بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
رانیہ پر سوچ انداز میں چلتی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا رہی تھی۔
~~~~~~~~~
"جیسے آپ کہیں گے وہ بلکل ویسے ہی کرے گی.... "
صبیحہ بیگم بوکھلاہٹ کا شکار تھیں۔
"نہیں نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔"
انہوں نے مسکراتے ہوئے تلخی کم کرنا چاہی۔
"اچھا ٹھیک ہے....خدا حافظ۔"
جبراً مسکراتے ہوئے فون بند کر دیا۔
"عائشہ کس مصیبت میں ڈال دیا ہے تم نے مجھے.... "
وہ ہنکار بھرتی کمرے سے باہر نکل آئیں۔
"تم دعا کرنا میرے پیپرز اچھے ہو جائیں... "
عائشہ اپنے دھیان بیٹھی بول رہی تھی۔
"آپی آپ فکر نہ کریں دیکھنا بہت اچھے نمبر آئیں گے آپ کے.... "
مریم نے مسکراتے ہوئے تسلی دی۔
عائشہ بس مسکرا کر رہ گئی۔
"عائشہ بات سنو میری... "
مریم کو دیکھ کر وہ کچھ نرم پڑیں۔
"جی آتی ہوں... "
وہ اپنی کتابیں بند کرتی کھڑی ہو گئی۔
"جی امی؟"
وہ کمرے میں آتی ہوئی بولی۔
"تمہارے ابو کا فون تھا.... جانتی ہو کتنا غصہ کر رہے تھے عثمان نے تمہارا رشتہ مانگا ہے ان سے۔"
وہ رک کر اسے دیکھنے لگیں۔
عائشہ کا بجھا ہوا چہرہ یکدم کھل اٹھا۔
"پھر؟"
وہ اپنی کیفیت پر قابو پاتی اپنے تاثرات نارمل رکھنے کی سعی کرنے لگی۔
"دیکھو میری بچی.... مجھے اس رشتے سے کوئی اعتراض نہیں ہے عمر پڑھا لکھا ہے سعودیہ میں اچھا کماتا ہے پھر خوبصورت شکل و صورت کا مالک ہے۔ لیکن تم جانتی ہو نہ اپنے ابو کو وہ کسی صورت برادری سے باہر تمہارا رشتہ نہیں کریں گے۔"
وہ اس کے ہاتھ پکڑے نرمی سے کہنے لگیں۔
"تو پھر آپ منائیں ابو کو....وہ اتنے اچھے رشتے کو رد کر کے ایسے انسان سے میرا رشتہ کرنا چاہتے ہیں جس میں سرے سے کوئی اچھائی موجود نہیں ہے۔ میں کبھی بھی خوش نہیں رہ سکوں گی کسی اور کے ساتھ۔"
بولتے بولتے آواز بھرا گئی۔
"تمہارے لئے میں کوشش کروں گی... وہ پاکستان آئیں گے تو پھر ان سے بات کروں گی۔ لیکن تب تک تمہیں انتظار کرنا ہوگا اور کوئی ایسی حرکت نہیں کروں گی جس سے مجھے شرمندگی ہو۔"
وہ تنبیہ کرتی نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں۔
"ٹھیک ہے امی.... "
وہ نم آنکھوں سے مسکرانے لگی۔
عائشہ اٹھی اور کمرے سے باہر نکل گئی۔
"مجھے امید ہے اسی طرح ابو بھی راضی ہو جائیں گے جیسے آپ مان گئیں ہیں۔"
وہ دونوں ہاتھوں سے آنکھیں رگڑتی ہوئی کمرے میں آ گئی۔
ڈائری نکالی اور قلم لے کر بیٹھ گئی۔
"عمر میں بہت خوش ہوں.... میں جانتی تھی تم اپنا کہا ضرور پورا کرو گے۔ آج میرے دل میں تمہارے لئے محبت اور عزت اور بھی بڑھ گئی ہیں۔"
آنسو رخسار سے ہوتے ہوئے صفحے پر گر رہے تھے۔
"تم نے جو کہا وہ کیا بھی... میں جانتی تھی تم میرا مان نہیں توڑو گے اور اسی طرح ایک دن ابو بھی مان جائیں گے.... "
"بس میری دعا ہے جلد ہی یہ سب ہو جاےُ.... تم سے دور رہنا کتنا مشکل ہے میں بتا نہیں سکتی۔ ایک ایک لمحہ بھاری لگتا ہے۔ گھڑی تو مانو رک گئی ہے جیسے چلتی ہی نہیں ہے۔"
وہ ڈائری بند کرتی دوپٹے سے چہرہ صاف کرنے لگی۔
"میری دعائیں ضرور قبول ہوں گی مجھے یقین ہے.... اور ایک دن ہم ساتھ ہوں گے۔"
وہ ڈائری کو دیکھتی مسکرانے لگی۔
~~~~~~~~
"آئم سوری بھیا... "
عمر نادم سا ان کے سامنے کھڑا تھا۔
"تم سوری کیوں بول رہے ہو؟"
عثمان نے مسکرا کر ٹالنا چاہا۔
"میری وجہ سے آپ کو اتنا سب سننا پڑا... وہ ساری باتیں جو انکل نے کہیں میں نے سن لیں تھیں۔"
"کوئی بات نہیں... تم پریشان مت ہو۔"
وہ اس کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے مسکراےُ۔
"مجھے بہت برا لگ رہا ہے بھیا میری وجہ سے.... "
"بس اب مزید کچھ نہیں بولو گے تم... جو بھی کہا تم بھول جاؤ۔ تم میرے بھائی ہو تمہارے لئے اتنا تو کر ہی سکتا ہوں میں۔"
وہ اسے سینے سے لگاتے ہوئے بولے۔
عمر کی آنکھوں میں نمی ابھرنے لگی۔
"تھینک یو سو مچ بھیا... مجھے نہیں پتہ نہیں کیسے۔"
"تم مجھ سے اب غیروں والی باتیں کرو گے؟"
وہ اس کی بات کاٹتے خفگی سے بولے۔
"مجھے سمجھ نہیں آ رہا.... "
وہ لاچاری سے انہیں دیکھ رہا تھا۔
"تم پریشان مت ہو.... الله بہتر کرے گا۔"
عثمان مسکراتے ہوئے بولا۔
"آپ شاید کہیں جا رہے تھے؟"
وہ ان کے ہاتھ میں چابی دیکھ کر بولا۔
"ہاں کچھ کام تھی بس اسی کے لئے.... پھر میں آ کر تم سے بات کرتا ہوں اس متعلق۔"
وہ اس کا شانہ تھپتھپاتے چل دئیے۔
"ٹھیک ہے... "
آواز قدرے مدھم تھی۔
"آپ جیسا بھائی ملنا بھی کسی نعمت سے کم نہیں۔ اتنا سب سننے کے بعد بھی ماتھے پر ایک شکن تک نہیں آپ کے...."
وہ نم آنکھوں سے مسکرا رہا تھا۔
"انکل نے تو منع کر دیا ہے.... اب کیسے ہوگا یہ سب؟"
وہ متفکر سا بولا۔
"پتہ نہیں تمہیں کچھ علم ہے بھی یا نہیں اس بارے میں۔"
وہ کہتا ہوا صوفے پر بیٹھ گیا۔
براؤن ٹی شرٹ کے ساتھ بلیک ٹراؤذر پہنے, بال معمول کے خلاف منتشر تھے۔
وہ داڑھی مسلتا کچھ سوچ رہا تھا۔
اس بکھرے بکھرے سے حال میں بھی وہ خاصا دلکش معلوم ہو رہا تھا۔
"مجھے جلد از جلد تم سے بات کرنی ہے... لیکن آج تو شاید ممکن نہیں۔"
وہ گھڑی پر نظر ڈالتا ہوا بولا۔
"کل تم کالج جا کر ہی رابطہ کر سکو گی مجھ سے... "
وہ سامنے دیوار کو گھورتا خود کلامی کر رہا تھا۔
"پتہ نہیں کیسے ہوگا یہ سب... "
وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا بولا۔
یہی ایک فکر اسے تب سے کھاےُ جا رہی تھی۔
کچھ سوچ کر عمر نے جیب سے فون نکالا۔
فون خاموش تھا۔
"آہ... یہ انتظار کتنا مشکل ہوتا ہے!!! "
وہ سر صوفے کی پشت پر گراتا ہوا بولا۔
آنکھیں بند کیں تو عائشہ کا سراپا گھوم گیا۔
وہ اک پل جس پل میں اس نے اپنا دل کھویا تھا۔
ایک ہی بار دیکھا تھا اس نے اسے اور وہی چہرہ آنکھوں میں لئے بیٹھا تھا۔
وہ بند آنکھوں سے مسکرانے لگا۔
~~~~~~~~
گرمیوں کی خاموش دوپہر ہر سو چھائی ہوئی تھی۔
اس تپتی دھوپ نے سب کو کمروں تک محدود کر دیا تھا۔
ہوا پتوں کو تنگ کرتی سرسراہٹ پیدا کر رہی تھی۔
حویلی کے گیٹ کے پاس کھڑے یہ ہرے بھرے درخت دھیرے دھیرے سرگوشیاں کر رہے تھے۔
رانیہ دم سادھے ان پتوں کو دیکھ رہی تھی جو ذرا سی ہوا کے چلنے سے حرکت کرنے لگتے۔
اپنے عقب میں اسے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔
چند پل وہ دم سادھے باہر دیکھتی رہی پھر دھیرے سے مڑی۔
فہد کو دیکھ کر اس کی رکی ہوئی سانس بحال ہوئی۔
"آپ نے تو مجھے ڈرا ہی دیا... "
وہ لمبا لمبا سانس لینے لگی۔
"تم مجھ سے ملے بغیر جا رہی تھی؟"
وہ آنکھیں چھوٹی کئے اسے گھور رہا تھا۔
"میں تو کام سے آئی تھی... "
جھٹ سے جواب آیا۔
"ہو تو بہت معصوم جواب تو تیار ہوتے تمہارے پاس ہمیشہ...."
وہ خفگی سے دیکھ رہا تھا۔
"میں نے کب جواب دئیے آپ کو؟"
وہ معصومیت سے اسے دیکھنے لگی۔
"مار ڈالو گی ایک دن ایسے ہی مجھے... "
وہ سینے پر ہاتھ رکھتا مسرور سا بولا۔
"الله نہ کرے... "
آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر گئیں۔
"اتنا ڈرتی ہو؟"
وہ لطف اندوز ہو رہا تھا۔
"ایسی باتیں کوئی کرتا ہے؟"
وہ برا مان گئی۔
"اچھا پھر کیسی باتیں کرتے ہیں تم بتاؤ؟"
وہ پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالتا ہوا بولا۔
وائٹ پینٹ, وائٹ شرٹ کے ساتھ چیک والا کوٹ پہنے وہ پرکشش دکھائی دے رہا تھا۔ بھورے بال ماتھے پر گرا رکھے تھے۔ بھوری آنکھیں اس پر جمی تھیں۔
"مجھے کیا پتہ... "
وہ آہستہ سے بولی۔
سیاہ سادہ سی شلوار قمیص کے ساتھ جامنی دوپٹہ اس پر جچ رہا تھا۔
گھنی پلکوں کی چادر بار بار اٹھتی اور گرتی۔
"اچھی لگ رہی ہو... "
لب دم بخود مسکرانے لگے۔
"اچھا میں جاؤں اب؟"
وہ مسکراہٹ دبانے کی ممکن سعی کر رہی تھی۔
"تم بلش کر رہی ہو؟ اوپر دیکھو مجھے دیکھنا ہے...."
وہ اشتیاق سے اس کے جھکے سر کو دیکھ رہا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
"امی میری منتظر ہوں گی... "
وہ ہاتھ مسلتی ہوئی بولی۔
فہد کی نظر اس کے گلابی موٹے موٹے ہاتھوں پر ٹھہر گئی۔
"اور جو انتظار میں کرتا ہوں؟ اس کی کوئی پرواہ نہیں تمہیں؟"
وہ خفا ہو رہا تھا۔
"آپ سمجھا کریں نہ مجھے... "
وہ بے بسی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
"تم جب جب مجھے دیکھتی ہو محبت پھر سے ہو جاتی تم سے... "
وہ بغور اس کی آنکھوں میں دیکھتا بول رہا تھا۔
"اچھا...خدا حافظ... "
وہ گھبرا کر کہتی مڑ گئی۔
"میں انتظار کر رہا ہوں... بھول مت جانا۔"
وہ اس کی پشت کو دیکھ رہا تھا۔
رانیہ مسکراتی ہوئی نیچے چلی گئی۔
~~~~~~~~
"میں نے عمر کی امی سے بات کی ہے... "
وہ مسکراتی ہوئی بولیں۔
"کیا بات؟"
عائشہ رک کر انہیں دیکھنے لگی۔
"میں نے ان سے کہا ہے کہ وہ رشتہ لے کر آئیں... تم بلکل فکر مت کرو میں تمہارے ساتھ ہوں۔"
وہ اس کے ہاتھ پکڑتی ہوئی بولیں۔
"امی مجھے سمجھ نہیں آ رہا کیسے آپکی شکریہ ادا کروں..."
عائشہ آنکھوں میں نمی لئے انہیں دیکھ رہی تھی۔
"تمہیں دیر ہو رہی ہے... جاؤ اب اور پریشان مت ہونا تمہاری امی تمہارے ساتھ ہے۔"
وہ اس کا بیگ اٹھاتی ہوئی بولیں۔
"جی ٹھیک ہے امی... "
وہ ہلکی پھلکی سی ہو گئی۔
"عمر کیسے ہیں آپ؟"
بے قرار سا لہجہ۔
"میں ٹھیک ہوں تم بتاؤ ٹھیک ہو نہ؟"
دوسری جانب بھی فکر نمایاں تھی۔
"ہاں میں ٹھیک ہوں... اور آپ کو پتہ ہے امی میرے ساتھ ہیں وہ ابو سے بات کریں گے... "
اس کی آواز میں خوشی کی رمق تھی۔
"سچ؟"
وہ بے یقینی سے گویا ہوا۔
"ہاں جی... صبح ہی انہوں نے آپکی امی سے بات کی۔ میرا دل کہتا ہے ابو مان جائیں گے۔"
وہ پر امید تھی۔
"شکر ہے... ورنہ مجھے تو کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا۔"
اس کی آدھی فکر دور ہو چکی تھی۔
"اچھا عمر میں آپ کو بریک ٹائم میں فون کرتی ہوں... ابھی لیکچر کا ٹائم ہو رہا ہے۔"
وہ ہاتھ پر بندھی گھڑی پر نظر ڈالتی ہوئی بولی۔
"ٹھیک ہے اپنا خیال رکھنا... "
وہ مسکراتا ہوا بولا۔
"آپ بھی... "
عائشہ نے کہتے ہوئے فون بند کر دیا۔
چند لمحے مسکراتے ہوئے وہ فون کو دیکھتی رہی۔
"آپ کی آواز سن کر لگتا ہے پھر سے زندہ ہو گئی ہوں میں..."
وہ فون سینے سے لگاتی ہوئی بولی۔
"بس ابو مان جائیں...."
وہ کہتی ہوئی فون بیگ میں رکھتی باہر نکل آئی۔
"پتہ نہیں امی کیسے منائیں گیں ابو کو... "
پریشانی جوں کی توں برقرار تھی۔
"نہیں.. نہیں... مجھے یقین ہے وہ مان جائیں گے۔"
وہ خود کو دلاسے دیتی کلاس میں آ گئی۔
"حنا میں تمہارے بیگ میں ڈال رہی ہوں تمہارا فون... "
وہ سیٹ پر بیٹھتی ہوئی دھیرے سے بولی۔
"ہاں ٹھیک ہے رکھ دو...."
وہ مسکراتی ہوئی بولی۔
~~~~~~~~
"امی کب جائیں گیں آپ؟"
عمر نے بے قراری سے استفسار کیا۔
"صبیحہ کہہ رہی تھی کہ کچھ دن رک جاؤں... عائشہ کے بھی پیپرز ہونے والے ہیں وہ فری ہو جاےُ پھر۔"
وہ اس کے انداز پر مسکرانے لگیں۔
"جواب ہاں ہی ہوگا نہ؟"
وہ کچھ سوچ کر بولا۔
"اچھے کی امید رکھو.... سب اچھا ہی ہوگا۔"
وہ پر امید تھیں۔
"چلیں ٹھیک ہے آپ کھانا بنائیں میں پھر فون کروں گا۔"
جونہی یاد آیا وہ بول پڑا۔
فون جیب میں ڈال کر وہ ٹہلنے لگا۔
بے چینی ہی بے چینی تھی۔
"جب تک میرے حق میں فیصلہ نہیں ہو جاتا مجھے سکون نہیں ملے گا... "
وہ ہاتھ مسلتا باہر نکل آیا۔
"مجھے بس اس دن کا انتظار ہے جب تم میرے ساتھ ہو گی... "
لب دم بخود مسکرانے لگے۔
وہ سانس خارج کرتا تیز تیز قدم اٹھانے لگا۔
~~~~~~~~
"آپ فکر مت کریں عائشہ کا رشتہ تو میں آپ کو ہی دوں گی۔"
وہ بھرپور مسکراہٹ لئے بولیں۔
"مجھے تو انتظار ہے کب میں اسے اپنی بیٹی بنا کر لے جاؤں۔"
وہ جواباً مسکرائیں۔
"آپ سمجھیں اب عائشہ آپ کی امانت ہے میرے پاس... میں خاندان میں کسی کو نہیں دوں گی اس کا رشتہ.... عمر کے ساتھ ہی کرواؤں گی اس کی شادی... "
وہ مسرور سی بولیں۔
"مجھے خوشی ہو رہی ہے.... یقین مانیں میری فکر ختم کر دی آپ نے۔"
وہ تشکرانہ نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔
"ہاں باقی سب تو ٹھیک ہے.... اس کے ابو آ جائیں پھر میں ان سے بات کروں گی۔ ویسے بھی ابھی تو عائشہ کی یونیورسٹی شروع ہوئی ہے۔"
وہ پر سوچ انداز میں بولیں۔
"ٹھیک ہے انتظار تو ہم کر لیں گے.... لیکن ...."
"آپ پریشان مت ہوں... بس ابھی کچھ وقت کے لئے خاموش ہو جائیں۔ عائشہ آپ کے گھر کی بہو بنے گی بے فکر ہو جائیں آپ۔"
وہ گلاس ان کی جانب بڑھاتی ہوئی بولی۔
"بہت شکریہ... "
وہ گلاس پکڑتی ہوئی بولیں۔
عائشہ بے چینی سے ٹہل رہی تھی۔
"امی؟"
جیسے ہی عائشہ کی نظر ان پر پڑی بول اٹھی۔
"ہاں میں نے بات کر لی ہے تم زیادہ سوچو مت اس بارے میں... اور اپنی پڑھائی پر دھیان دو۔"
وہ مسکراتی ہوئی باورچی خانے کی سمت چل دیں۔
وہ خاموشی سے دروازے کو گھورنے لگی۔
"کتنا پیچیدہ ہے یہ سب... "
وہ جھرجھری لیتی بیڈ پر بیٹھ گئی۔
سامنے کتاب پڑی تھی جسے اٹھا کر وہ صفحے الٹنے لگی۔
دماغ دور کہیں عمر کے خیالوں میں گم تھا۔
~~~~~~~~
"کہاں جا رہی ہو؟"
آواز سنتے ہی رانیہ چہرہ موڑ کر گاڑی کو دیکھنے لگی۔
فہد کا مسکراتا ہوا چہرہ دکھائی دیا۔
"کالج جا رہی تھی... "
وہ چادر درست کرنے لگی۔
"اچھا چلو آؤ میں چھوڑ دیتا ہوں... میں بھی شہر کی طرف ہی جا رہا ہوں۔"
وہ سٹیرنگ پر ہاتھ رکھے اس کے جواب کا منتظر تھا۔
"نہ.. نہیں... میں بس لے کر چلی جاؤں گی آپ جائیں... "
وہ اردگرد نگاہ ڈالتی ہوئی بولی۔
"اب اس طرح کہو گی مجھے تم؟"
وہ مصنوعی خفگی سے دیکھ رہا تھا۔
"آپ سمجھتے کیوں نہیں ہیں؟ کسی نے دیکھ لیا تو قیامت آ جاےُ گی۔"
وہ گھبرا کر دائیں بائیں دیکھ رہی تھی۔
"تم اس چادر سے نقاب کر لو... اگر کوئی دیکھ بھی لے گا تو معلوم نہیں ہوگا۔"
اس نے سہولت سے حل پیش کیا۔
"نہیں... آپ جائیں میں خود چلی جاؤں گی۔"
وہ نفی میں سر ہلاتی اسے دیکھنے لگی۔
"تم اتنی ضدی کیوں ہو آخر؟"
وہ تنگ آکر بولا۔
"آپ کو کوئی کچھ نہیں کہے گا۔ عزت میری خراب ہوگی,,, رسوائی میری ہوگی۔ یہ معاشرہ مرد کو کچھ نہیں کہتا سارے قصور عورت کے حصے میں ڈال دیتا ہے۔ اسی لئے میں ضد کرتی ہوں۔"
آج وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بول رہی تھی۔
"تم جانتی ہو میں تمہیں کبھی رسوا نہیں ہونے دوں گا... "
وہ پورے وثوق سے بول رہا تھا۔
"لیکن میں کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتی... آپ کو بھی سمجھنا ہوگی یہ بات۔"
کہہ کر وہ رکی نہیں اور تیز تیز قدم اٹھاتی اس کی گاڑی سے دور ہوتی گئی۔
فہد افسردگی سے اسے جاتا دیکھنے لگا۔
~~~~~~~~
عمر نے جب سے یہ خبر سنے تھی پھولے نہ سما رہا تھا۔
"مجھے یقین نہیں آ رہا...."
وہ بے یقینی کی کیفیت میں تھا۔
"اب تم اس اچھی خبر پر یقین نہیں کرو گے؟"
عثمان آبرو اچکا کر بولا۔
"ایسی بات نہیں ہے.... مطلب...."
وہ اپنی کیفیت بتانے سے قاصر تھا۔
چہرے پر ایک نا ختم ہونے والی مسکراہٹ تھی۔
"میں سمجھ رہا ہوں... "
وہ اسے دیکھتے ہوئے مسکرانے لگے۔
"خوشی اتنی ہے سمجھ ہی نہیں آ رہا کیا بولوں.... "
وہ سر کھجاتا ہوا بولا۔
"الله سے اچھے کی امید رکھو ہمیشہ.... جیسا انسان گمان رکھتا ہے ہوتا بھی ویسا ہی ہے۔"
وہ چاےُ کا مگ اٹھاتے ہوئے بولے۔
"جی بلکل.... مجھے امید ہے بہت جلد وہ دن بھی آ جاےُ گا۔"
وہ مسرور سا بول رہا تھا۔
"ہاں بلکل اور اب تم پریشان مت ہونا,,, ہم سب سنبھال لیں گے تمہیں اس کے لئے فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں۔تم بیٹھو میں یہ کال سن کر آیا۔"
عثمان فون اٹھاتا وہاں سے نکل گیا۔
"کاش اس وقت میں پاکستان ہوتا.... کم از کم تمہیں دیکھ ہی لیتا.... "
وہ حسرت سے گویا ہوا۔
"خیر کوئی بات نہیں... بہت جلد دیکھوں گا تمہیں۔ کتنی باتیں کرنی ہیں تم سے مجھے۔"
وہ مگ کے کنارے پر انگلی پھیر رہا تھا۔
"وہ دن دور نہیں جب تمہیں میرے نام سے پکارا جاےُ گا۔"
لب دھیرے سے مسکرانے لگے۔
کچھ سوچ کر اس نے مگ اٹھایا اور کمرے کی سمت چل دیا۔
~~~~~~~~
عائشہ فون کان سے لگاےُ خاموشی سے انہیں سن رہی تھی۔
نجانے کون سی وہ گالی ہو گی جو انہوں نے عائشہ کو نہیں دی ہوگی۔
آنکھیں نمکین پانیوں سے لبریز تھیں۔
وہ ضبط کی انتہا پر تھی۔
"میری بات کان کھول کر سن لو تم یہ جو سوچ رہی ہو نہ ایسا کبھی نہیں ہوگا.... آ رہا ہوں میں پاکستان,, اپنے ہاتھوں سے گولی ماروں گا تمہیں۔"
آواز اتنی بلند تھی کہ عائشہ نے سختی سے آنکھیں میچ لیں۔
اس سے قبل کہ وہ لب کھولتی کھٹاک کی آواز کے ساتھ فون بند ہو چکا تھا۔
وہ ہچکیاں لیتی فون کو دیکھنے لگی۔
"یہ سب کیا ہو گیا؟"
وہ وہیں زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔
"مجھے تو لگا تھا سب ٹھیک ہو جاےُ گا.... لیکن ابو... "
آنسو لڑی کی صورت میں اس کے رخسار کو بھگو رہے تھے۔
"ابو تو بہت غصے میں ہیں... "
وہ ہچکیاں لیتی پھر سے فون کو دیکھنے لگی۔
"مہ... میں کیا کروں... "
وہ غم و بے بسی کی تصویر بنی ہوئی تھی۔
"مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا میں کیا کروں.... "
وہ دونوں ہاتھوں سے سر تھامتی ہوئی بولی۔
"ایسے تو کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوگا... "
"مہ... میں کسی دوسرے انسان کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی... "
وہ سر گھٹنوں پر گراےُ بول رہی تھی۔
"نہیں ہوگا مجھ سے یہ.... میرے بس میں نہیں ہے.... "
وہ دھیرے دھیرے سے سرگوشیاں کرتی زاروقطار رو رہی تھی۔
"پلیز الله میری مدد کریں... مجھے اس مشکل سے نکال لیں۔ میں نے بس وہی ایک انسان مانگا ہے آپ سے,, میں اسے نہیں چھوڑ سکتی میں نہیں رہ سکتی اس کے بغیر.... "
اردگرد کی پرواہ کئے بغیر وہ خود کلامی کر رہی تھی۔
جانے کتنی دیر وہ یونہی بیٹھی رہی۔
اب کمرے میں صرف عائشہ کی سسکیاں سنائی دے رہی تھیں۔
ایک نہ ختم ہونے والے کرب کا آغاز ہو چکا تھا۔
~~~~~~~~
"عائشہ کچھ بتاؤ گی کیا ہوا ہے تمہیں؟"
حنا گزشتہ آدھ گھنٹے سے یہی ایک سوال پوچھ رہی تھی۔
اور عائشہ ایسے بیٹھی تھی مانو کچھ سنائی نہیں دے رہا۔
"یار بتاؤ تو.... "
وہ عائشہ کا منہ اپنی جانب موڑتی ہوئی بولی۔
"ابو پاکستان آ رہے ہیں.... پتہ نہیں کیا ہوگا اب.... "
وہ جو صبح سے ضبط کئے بیٹھی تھی چہرہ ہاتھوں میں چھپاےُ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
"کچھ کہا ہے انکل نے؟ مجھے بتاؤ تو۔ یار پلیز ایسے مت رو مجھے بھی رونا آ رہا ہے تمہیں دیکھ کر۔"
وہ افسردگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
"مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا.... میں بس اتنا جانتی ہوں میں نہیں رہ سکتی عمر کے بغیر.... "
آواز قدرے مدھم ہو گئی۔
"اچھا تم رونا تو بند کرو... دیکھو سب دیکھ رہے ہیں تمہیں... "
وہ دائیں بائیں نگاہ دوڑاتی ہوئی بولی۔
وہ دونوں اس وقت کینٹین میں بیٹھیں تھیں۔
عائشہ اثبات میں سر ہلاتی چہرہ صاف کرنے لگی۔
"مہ... میں ٹھیک ہوں... "
اس نے حنا کو تسلی دینا چاہی۔
"ہاں نظر آ رہا ہے.... چلو اب کچھ کھانے کو لیتے ہیں۔"
وہ کھڑی ہوئی تو ناچار عائشہ کو بھی کھڑا ہونا پڑا۔
~~~~~~~~
"امی یہ بڑے لوگ کتنے عجیب ہوتے ہیں نہ؟"
وہ کسی گہری سوچ میں گم ان سے مخاطب تھی۔
"کیوں کیا ہوا اب؟"
وہ چولہا جلاتی ہوئی بولیں۔
"ہم لوگوں کو اچھوت سمجھتے ہیں... ہمیں تو انسان سمجھتے ہی نہیں ہیں ایسے جیسی کوئی گندی چیز ہیں ہم۔"
وہ پیشانی پر بل ڈالے سامنے اس بوسیدہ سی دیوار کو دیکھ رہی تھی۔
"بس بیٹا ایسا ہی ہے یہ زمانہ... یہی سب چل رہا ہے نجانے کب سے۔"
وہ سرد آہ بھرتی ہوئی بولیں۔
"امی کیوں یہ بڑے لوگ ایسے کرتے ہیں... کیا ہم انسان نہیں ہیں؟ ہمارے احساسات نہیں؟ ہمیں تکلیف نہیں ہوتی کیا؟"
وہ پے در پے سوال کرنے لگی۔
"کسی نے کچھ کہا ہے کیا تمہیں؟ جو آج اتنے سوال پوچھ رہی؟"
وہ ہاتھ روک کر اسے دیکھنے لگیں۔
رانیہ تلخی سے مسکرانے لگی۔
"اچھا چھوڑیں یہ سب آپ.... میں چھت سے کپڑے اتارنے جا رہی ہوں۔"
وہ گھڑی پر نظر ڈالتی ہوئی بولی۔
"ہاں جاؤ... اور جلدی واپس آ جانا مغرب کی اذان ہونے والی ہے۔"
وہ پھر سے اپنے کام میں مصروف ہو چکی تھیں۔
رانیہ اس چھوٹے سے صحن کو عبور کرتی ان ٹوٹی پھوٹی سیڑھیوں پر قدم رکھتی اوپر آ گئی۔
"کدھر گم تھی؟"
فہد دیوار پر ہاتھ رکھ کر اِدھر کو جھکا ہوا تھا۔
"کام کر رہی تھی.... "
وہ سپاٹ انداز میں کہہ کر کپڑے اتارنے لگی۔
"کیا ہوا تمہارا چہرہ اترا کیوں ہوا ہے؟"
وہ جانچتی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
"کچھ نہیں بس تھک گئی ہوں شاید... "
وہ اسے دیکھے بنا بول رہی تھی۔
"چھوڑو یہ کام اور اِدھر دیکھو... "
وہ تحکم سے بولا۔
"کیوں مانوں میں آپ کی؟ اور آپ بھی یہ سب ختم کر دیں تو بہتر ہوگا... "
وہ ایک نظر اس پر ڈال کر وہاں رکی نہیں بلکہ تیزی سے نیچے چلی گئی۔
فہد ہکا بکا رہ گیا۔
"اس کو کیا ہوا؟"
وہ پیچھے ہوتا ہوا بولا۔
"پہلے تو ایسے کبھی بات نہیں کی مجھ سے... "
وہ پر سوچ انداز میں کہتا چیئر پر بیٹھ گیا۔
"آج کچھ عجیب سی لگ رہی تھی.... کہیں امی یا ابو نے تو کچھ نہیں دیا... انہیں علم تو نہیں ہوگیا؟"
وہ جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا۔
"نہیں... مجھے نہیں لگتا انہیں کچھ بھی معلوم ہوگا ورنہ اب تک عدالت لگا چکے ہوتے ابو... "
وہ نفی میں سر ہلاتی اپنی نفی کرنے لگا۔
"پھر ایسا کیوں کہہ کر گئی یہ.... "
وہ بے چینی سے ٹہلنے لگا۔
"حد ہے.... پتہ نہیں کیا مسئلہ تھا اسے۔"
وہ اکتا کر بولا۔
"اب سامنے آےُ گی نہیں اور میں ایسے ہی ہلکان ہوتا رہوں گا.... "
وہ ہنکار بھرتا زینے اترنے لگا۔
~~~~~~~~
"حنا وہ عمر ہے نہ؟"
جونہی عائشہ نے گیٹ عبور کیا سامنے عمر کو دیکھ کر ٹھٹھک گئی۔
حنا نے نظر اٹھا کر سامنے کھڑے شخص کو دیکھا۔
"ہاں عمر ہی ہے.... یہ پاکستان کب آیا؟ تم نے تو بتایا ہی نہیں۔"
وہ برا مان گئی۔
"مجھے خود بھی نہیں معلوم تھا... "
نگاہیں ہنوز عمر پر تھیں۔
دونوں یک ٹک ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔
عائشہ کی آنکھوں میں نمی ابھرنے لگی۔
وہ جتنا دور اس سے اس وقت تھا حقیقت میں فاصلہ اس سے بھی زیادہ تھا۔
وہ اس سے اتنا دور تھا کہ لگتا تھا شاید یہ عمر کم پڑ جاےُ گی فاصلہ ختم کرتے کرتے۔
عائشہ اداسی سے مسکرانے لگی۔
"کچھ بھی ہو جاےُ میں تمہیں نہیں چھوڑوں گی.... "
وہ دل ہی دل میں خود سے عہد کر رہی تھی۔
عمر ایک نرم مسکراہٹ اس کی جانب اچھالتا آگے بڑھ گیا۔
محبت کرنے والے رسوا نہیں کرتے وہ بھی ایسا نہیں چاہتا تھا اسی لئے نہ چاہتے ہوئے بھی دل پر بندھ باندھتا چل دیا۔
وہ سر جھکائے چل رہا تھا۔
"کیسا ستم ہے قسمت کا؟ چند پل کے لئے دیکھ بھی نہیں سکتا تمہیں... "
وہ دھیرے دھیرے سرگوشیاں کر رہا تھا۔
"جب تم میرے گھر آ جاؤں گی پھر دیکھنا اپنے سامنے بٹھا کر رکھوں گا... جی بھر کے دیکھوں گا۔"
وہ اپنی بات پر خود ہی مسکرا دیا۔
دونوں ہاتھ جیب میں ڈالے وہ تیز تیز قدم اٹھانے لگا۔
~~~~~~~~
"عمر آپ کو دیکھ کر بہت ہمت ملتی ہے مجھے... "
وہ ڈائری کھولے بیٹھی تھی۔
"حالات کیسے بھی ہوں مجھے یقین ہے ایک دن سب ٹھیک ہو جاےُ گا... "
وہ نم آنکھوں سے مسکرانے لگی۔
صبیحہ بیگم کی آواز سنتے ہی اس نے ڈائری بند کی اور کھڑی ہو گئی۔
"جی امی... "
وہ سرعت سے باہر نکل آئی۔
"کھانا رکھو,,, سب انتظار کر رہے ہیں۔ اور ہاں تمہارے ابو کا فون آیا تھا ایک دو دن میں شاید آ جائیں وہ۔"
عائشہ جو جگ میں پانی ڈال رہی رک کر انہیں دیکھنے لگی۔
صبیحہ بیگم کا چہرہ کسی بھی تاثر سے پاک تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
"الله خیر کرے بس... ابو پتہ نہیں کیا کریں گے.... "
وہ متفکر سی بولی۔
"چلو رکھو اندر.... بچے کب سے انتظار کر رہے ہیں۔"
وہ خفا انداز میں کہتی باہر نکل گئیں۔
"جی آئی... "
وہ اپنے سوچوں کے محور سے باہر نکلتی ہوئی بولی۔
~~~~~~~~
"امی میں کیوں؟"
رانیہ اپنی جگہ سے اچھل کر کھڑی ہو گئی۔
"بیگم صاحبہ نے کہا تھا تمہیں بھی ساتھ لے آؤں... ان کے ہاں کوئی تقریب ہے تو تم ساتھ کام کروا دینا۔"
وہ کچھ تلاش رہی تھیں۔
"امی مجھے نہیں جانا.... "
وہ قطعیت سے بولی۔
فہد کا چہرہ اس کی نظروں کے سامنے گھوم گیا۔
"نہیں مجھے ان کا سامنا نہیں کرنا... "
وہ خود کلامی کر رہی تھی۔
"کیوں؟ تمہیں کیا مسئلہ ہے؟"
وہ اس کی جانب گھومتی ناراضگی سے بولیں۔
"وہ... امی...وہ بیگم صاحبہ مجھے پسند نہیں کرتی نہ... اس لیے۔"
وہ عذر پیش کرنے لگی۔
"ہاں تو اب انہوں نے خود کہا ہے... اگر تمہیں ساتھ نہ لے گئی تو بلاوجہ غصہ کریں گے..."
وہ پھر سے صندوق پر جھک چکی تھیں۔
"اف....کیسے سمجھاؤں انہیں... "
وہ پیر پٹختی کمرے سے باہر نکل گئی۔
"فہد ضرور بات کرنے کی کوشش کریں گے۔"
وہ انگلی دانتوں تلے دباےُ سوچ رہی تھی۔
"رانیہ چلو بھی.... دیر کر دی تو کتنی باتیں سننی پڑیں گی مجھے معلوم نہیں کیا تمہیں؟"
وہ باہر نکلتی ہوئی بولیں۔
"اچھا... "
رانیہ واقف تھی اسی لیے مزید بحث سے گریز کیا۔
"چادر لے کر آتی ہوں... "
وہ نا چاہتے ہوےُ بھی چل دی۔
~~~~~~~~
"سفر کیسا رہا آپ کا؟"
صبیحہ بیگم ان کے ہاتھ سے بیگ پکڑتی ہوئی بولیں۔
"ہاں ٹھیک تھا... "
وہ تنقیدی نظروں سے عائشہ کو دیکھ رہے تھے۔
عائشہ ان سے ملنے کے لیے آگے بڑھی لیکن وہ نظر انداز کر کے آگے بڑھ گئے۔
عائشہ ہق دق سی ان کی پشت کو دیکھنے لگی۔
وہ مریم کو گلے لگا رہے تھے۔
عائشہ کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔
"آپ ہمیشہ مجھے گلے سے لگاتے تھے... لیکن آج نہیں... ہاتھ تک نہیں ملایا آج تو.... "
وہ سرد آہ بھرتی انہیں دیکھ رہی تھی۔
وہ ندا اور نبیل سے مل کر اندر جا چکے تھے۔
وہ تنہا صحن میں کھڑی تھی۔
خوف اور بے بسی اس کی آنکھوں میں تیرتی دکھائی دے رہی تھی۔
"ٹھیک ہے.... مجھے ہمت سے کام لینا ہوگا... "
وہ خود کو دلاسہ دیتی آگے بڑھ گئی۔
کمرے میں سب خوش گپیوں میں مصروف تھے۔
جونہی عائشہ اندر داخل ہوئی فدا حسین خاموش ہو گئے۔
عجیب سی خاموشی گنگنا رہی تھی کمرے میں۔
"تم دیکھنا میں عمر کو مروا دوں گا... زندہ نہیں چھوڑوں گا اس بے غیرت انسان کو.... "
وہ صبیحہ بیگم کی جانب دیکھتے ہوئے طیش میں چلاےُ۔
ان کی بات پر عائشہ اندر تک لرز گئی۔
وہ تڑپ کر اپنے باپ کو دیکھنے لگی۔
"تم دونوں کو کبھی ایک نہیں ہونے دوں گا میں دیکھنا تم کیا حشر کرتا ہوں میں اس عمر کا.... "
وہ قہر برساتی نظروں سے عائشہ کو دیکھ رہے تھے۔
عائشہ کا سر جھک گیا۔
ہاتھ کپکپا رہے تھے۔ آنکھیں نمکین پانیوں سے لبریز تھیں۔
یہ لمحے خاصے بھاری ثابت ہو رہے تھے اس پر۔
"سمجھتا کیا ہے وہ خود... ایسی موت ماروں گا سب یاد رکھیں گے۔"
وہ چلاتے جا رہے تھے۔
کمرے میں موجود تمام نفوس ہونق زدہ سے انہیں دیکھ رہے تھے۔
"میں سالن کے نیچے چولہا بند کرنا بھول گئی تھی جاؤ عائشہ بند کرو...کہیں جل نہ جاےُ۔"
صبیحہ بیگم نے مداخلت کی۔
عائشہ فوراً سے بیشتر وہاں سے غائب ہو گئی۔
فدا حسین صاحب کی آواز اسے باہر بھی سنائی دے رہی تھی۔
وہ عمر کو کوس رہے تھے گالیاں دے رہے تھے۔
"کاش میں اپنے کان بند کر سکتی... "
وہ سسکتی ہوئی دوسرے کمرے میں آ گئی۔
"میں کیسے برداشت کروں گی یہ سب... ابو سے تو اب اور بھی خوف آنے لگا ہے۔ اگر انہوں نے عمر کو کچھ کر دیا...."
اس سے آگے وہ کچھ سوچ نہ سکی۔
الفاظ دم توڑ گئے۔
"نہ... نہیں ایسا کچھ نہیں ہوگا... عمر کو کچھ نہیں ہوگا۔"
وہ نفی میں سر ہلاتی خود کو تسلی دینے لگی۔
آنسو کب پلکوں کی باڑ کو توڑ کر اس کے رخسار کو بھگونے لگے اسے علم ہی نہ ہوا۔
"پلیز الله پاک عمر کی حفاظت کرنا... اسے کچھ نہ ہو... ابو کا غصہ وقتی ہو... وہ کچھ نہ کریں عمر کو۔"
وہ اس مچھلی کی مانند تڑپ رہی تھی جسے پانی سے نکال کر باہر پھینک دیا گیا ہو۔
"کچھ نہیں ہوگا عمر کو... مجھے یقین ہے الله پر... وہ کچھ غلط نہیں کرے گا ہمارے ساتھ۔"
وہ سوں سوں کرتی چہرہ صاف کرنے لگی۔
"نماز کا ٹائم ہو گیا ہے.... "
اچانک اس کی نظر گھڑی پر پڑی تو دوپٹہ اٹھاتی باہر نکل آئی۔
~~~~~~~~
"بس اب یہاں سے باہر نہیں جانا میں... "
رانیہ باورچی خانے کے دروازے میں کھڑی باہر دیکھتی ہوئی بولی۔
"یہاں وہ مجھے دیکھ بھی نہیں سکیں گے پھر بات کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا... "
وہ ہلکی پھلکی سی ہو کر سلیب کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی۔
"رانیہ ان سب گلاس میں جوس ڈالوں... پھر باہر مہمانوں کو دینا ہے۔ نازو آےُ گی اسے دے دینا مجھے بیگم صاحبہ بلا رہی ہیں۔"
وہ سرعت سے کہتیں باہر نکل گئیں۔
"اچھا امی... "
وہ کہہ کر گلاس میں جوس انڈیلنے لگی۔
"اچھا تو یہاں چھپ کر بیٹھی ہو تم... "
وہ دروازے کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا تھا۔
سیاہ شلوار قمیض پہنے, شانے پر شال رکھے, بال نفاست سے سیٹ کر رکھے تھے۔ شیو معمول کے خلاف بڑھی ہوئی تھی۔جو اس پر چار چاند لگا رہی تھی۔
"آپ؟"
وہ اچھل پڑی۔
"غالباً میں بھوت تو نہیں ہوں... "
وہ برا مان گیا۔
"آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ کسی نے دیکھ لیا تو... "
"بس بس... تمہیں کسی کی فکر رہتی ہے لیکن میری نہیں۔"
وہ خفا انداز میں کہتا قدم اٹھانے لگا۔
"میں نے اس دن آپ کو بتا دیا تھا...اب پلیز خدا کے واسطے چلے جائیں یہاں سے... کسی نے دیکھ لیا تو مصیبت کھڑی ہو جاےُ گی۔"
وہ روہانسی ہو گئی۔
"اچھا ٹھیک ہے میں چلا جاتا ہوں... لیکن اس رویے کی وجہ جان سکتا ہوں؟"
خاصے خشک لہجے میں جواب آیا۔
"آپ بڑے لوگ ہیں اور ہم چھوٹے.... ہمارا کوئی میل نہیں۔"
رانیہ نے کہتے ہوئے رخ پھیر لیا۔
"اس موضوع پر پہلے بھی بات ہو چکی ہے اور میں تمہیں بتا چکا ہوں کہ... "
"آپ نہیں سوچتے ایسا لیکن اس گھر کا ہر فرد ایسا ہی سوچتا ہے اور یہی حقیقت ہے۔"
وہ کرب سے آنکھیں میچ کر بولی۔
مٹھیاں زور سے بند کر رکھی تھیں۔
"اچھا نہیں کر رہی تم میرے ساتھ.... "
وہ وارن کرنے والے انداز میں بولا۔
وہ ضبط کی انتہا پر تھی۔
آنسو رخسار سے ہوتے ہوئے سلیب پر گر کر بے مول ہو رہے تھے۔
"یہی چاہی ہو نہ تم... "
وہ ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولا۔
"ہاں یہی چاہتی ہوں میں... دور رہیں مجھ سے۔"
وہ اپنی کیفیت پر قابو پانے کی ممکن سعی کر رہی تھی۔
"ٹھیک ہے....پھر ایسا چاہتی تو یہی سہی... "
وہ ہرٹ ہوا تھا۔
چند لمحے رانیہ آنکھیں بند کئے آنسو بہاتی رہی۔
قدموں کی آہٹ سن کر وہ دوپٹے سے چہرہ صاف کرنے لگی۔
"جوس ڈال دیا تم نے؟"
یہ نازو کی آواز تھی۔
"ہاں بس ڈال رہی ہوں... "
وہ تیز تیز ہاتھ چلانے لگی۔
"جلدی کرو ورنہ بیگم صاحبہ غصہ کریں گے... "
وہ دروازے کی سمت دیکھتی متفکر سی بولی۔
"ہاں بس ہو گیا یہ... "
وہ ٹرے اٹھاتی ہوئی بولی۔
"تمہیں کچھ ہوا ہے؟"
نازو اس کی سرخ ہوئی ناک کو دیکھ رہی تھی۔
"چھینکیں آ رہیں تھیں... "
وہ سوں سوں کرتی ہوئی بولی۔
"اچھا دوائی لے لینا پھر یاد سے.... "
وہ مسکراتی ہوئی باہر نکل گئی۔
رانیہ لب بھینچے دروازے کو دیکھنے لگی۔
~~~~~~~~
"میں دیکھتا ہوں کیسے تمہاری شادی اس عمر سے ہوتی ہے.... آصف سے شادی کرو گی تم آئی سمجھ.... "
جونہی عائشہ کمرے سے نکلی ان کی گرج دار آواز گونجی۔
وہ جو برقع پہنے یونیورسٹی جانے لگی تھی سہم کر وہیں کھڑی ہو گئی۔
"نہیں ابو.... "
عائشہ بس اتنا ہی بول پائی۔
فدا حسین کے تھپڑ نے اسے مزید بولنے کے قابل نہیں چھوڑا۔
اس اچانک افتاد پر وہ کانپ اٹھی۔
سر دم بخود جھک گیا۔
آنکھوں میں نمی ابھرنے لگی۔
"شرم نہیں آتی تمہیں.... یہ اے سی تم لوگوں کو لگوا کر دیا ہے میں,,,کھانے کو اتنا اچھا دیتا ہوں....ان لوگوں کو جا کر دیکھو جن کے گھر میں اے سی نہیں ہے۔ اتنا کچھ کرتا ہوں تم لوگوں کے لئے میں... "
وہ پیشانی پر بل ڈالے اسے گھور رہے تھے۔
عائشہ کے قدم منجمد ہو چکے تھے۔
آنکھوں میں نمی لئے وہ دونوں ہونٹ آپس میں مبسوط کئے زمین کو گھور رہی تھی۔
"اچھے کالج میں پڑھایا,, اچھا پہننے کو دیتا ہوں,,,کوئی بھی نہیں کرتا یہ سب....."
وہ ہنکار بھرتے ہوئے چارپائی پر آ بیٹھے۔
صبیحہ بیگم بھی یہ سب سن رہی تھیں لیکن خاموش رہیں کیونکہ یہ باتیں پہلی بار نہیں ہو رہی تھیں۔
وہ افسردگی سے عائشہ کو دیکھ رہی تھیں۔
"جاؤ تمہیں دیر ہو جاےُ گی.... "
اس سے قبل کہ وہ مزید کچھ بولتے صبیحہ بیگم نے بت بنی عائشہ کو ہلا کر کہا۔
"جی...جی امی... "
وہ اثبات میں سر ہلاتی چل دی۔
"اتنا سب کرتا ہوں تم لوگوں کے لئے میں مجال ہے جو احساس ہو باپ کا.... "
وہ کہاں خاموش رہنے والے تھے۔
عائشہ آنسو پیتی دروازے سے باہر نکل گئی۔
"میں ناشتہ لاتی ہوں آپ کے لئے.... "
صبیحہ بیگم کو کچھ سمجھ نہ آیا تو باورچی خانے کی سمت چل دیں۔
"کھا کھا کے حرام کر رہے ہیں یہاں تو سب... باپ کما کما کے ان کی جھولیاں بھرتا رہے بس... "
وہ کوفت سے کہتے فون نکالنے لگے۔
~~~~~~~~
"کیا ہوا اتنی خار کیوں کھا رہا ہے؟"
ابتسام اس کے گھورنے پر تھوڑا فاصلے پر بیٹھ گیا۔
"میرا نہ دماغ پہلے ہی خراب ہے اب تو مزید خراب مت کرنا... "
وہ تنبیہ کرتی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔
"اچھاااااا..... "
وہ اچھا کو لمبا کرتے بغور اس کا چہرہ دیکھنے لگا۔
"ویسے صحیح کب تھا؟ میرے ناقص علم میں اضافہ کرنا پسند کریں گے آپ؟"
وہ معصومیت سے اسے دیکھ رہا تھا۔
"اپنی جان عزیز ہے نہ تو چلا جا یہاں سے... ورنہ... "
وہ انگلی اٹھا کر بولا۔
"ورنہ کیا میری جان؟"
وہ قہقہ لگاتا پاؤں ٹیبل پر رکھنے لگا۔
"تیرے ابو کو وہ شہر والی رمشا کا بتا دوں گا میں... "
یک دم اس کے دماغ میں جھماکا ہوا۔
"بکواس بند رکھ..... اور اگر خود سے بھی یہ بات کی نہ تو پھر دیکھنا... "
وہ اپنے عقب میں دروازے کو دیکھتا ہوا رازداری سے بولا۔
"اب آیا نہ اونٹ پہاڑ کے نیچے.... "
فہد کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔
"ویسے تجھے تو پہاڑ چلو مان سکتے ہیں... لیکن مجھے اونٹ سے بڑی خراب مشابہت دی ہے تو نے... "
وہ منہ بناتا ہوا بولا۔
"یار تو ہمیشہ مجھے تنگ کرنے ہی آتا ہے؟کبھی بندہ حال بھی پوچھ لیتا ہے....."
وہ تنک کر بولا۔
"حال تو بندی پوچھتی ہے ہمارے پوچھنے کی کون سا اہمیت ہے... "
وہ سینے پر ہاتھ رکھتا دہائی دیتا ہوا بولا۔
"فٹے منہ تیرے.... "
فہد نے کشن اٹھا کر مارا جو ابتسام نے مہارت سے کیچ کر لیا۔
"ہر بار نہیں... "
وہ دانت نکالتا ہوا بولا۔
"فہد...."
آواز پر دونوں نے دروازے کی سمت دیکھا۔
"اوہ... یہ ڈائن میرا پیچھا نہیں چھوڑے گی.... بچا لے یار میرا دماغ ویسے جگہ پر نہیں ہے۔"
وہ منت کر رہا تھا۔
"تو ٹینشن ہی نہ لے.... آخر یہ دوست کس مرض کی دوا ہے؟ اندر آنے دے اسے پھر دیکھنا... "
وہ بائیں آنکھ کا کونا دباتا ہوا بولا۔
فہد مطمئن سا ہو کر اثبات میں سر ہلانے لگا۔
~~~~~~~~
"عمر آپ ٹھیک تو ہیں نہ؟"
وہ گھبراہٹ کا شکار تھی۔
"ہاں... میں تو بلکل ٹھیک ہوں تمہیں کیا ہوا ہے؟"
وہ سیدھا ہوا کر بیٹھ گیا۔
"ابو جب سے آےُ ہیں... آ... آپ کو... "
اس سے آگے عائشہ سے بولا نہ گیا۔
وہ منہ پر ہاتھ رکھے اپنی سسکیاں دبانے لگی۔
"ہوا کیا ہے مجھے بتاؤ؟ تمہاری باتیں مجھے پریشان کر رہی ہیں؟"
وہ متفکر سا بولا۔
"وہ... وہ کہتے ہیں وہ آپ کو زندہ نہیں چھوڑیں گے.... "
کہتے ہوےُ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
"میں مر جاؤں گی اگر آپ کو کچھ ہو گیا تو... مہ... مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے عمر... "
وہ ہچکیاں لیتی بول رہی تھی۔
"پلیز تم رونا تو بند کرو.... مجھے تکلیف ہو رہی ہے عائشہ تم جانتی ہو میں تمہیں روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا.... اور تم پریشان مت ہو کچھ نہیں ہوگا مجھے... "
اس نے تسلی دینا چاہی۔
"عائشہ میری بات سن رہی ہو نہ؟ مجھے کچھ نہیں ہوگا اور دوبارہ تم رؤ گی نہیں ورنہ میں ناراض ہو جاؤں گا تم سے۔"
اس نے آخری حربہ استعمال کیا۔
وہ جو کچھ دیر سے خاموش تھی فوراً بول اٹھی۔
"ٹھیک ہے نہیں روتی میں... لیکن مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے کہیں وہ سچ میں... "
وہ بولتی ہوئی چپ ہو گئی۔
"کچھ نہیں ہوگا تم پریشان مت ہو.... حفاظت کرنے والی ذات الله کی ہے تم بس اس پر بھروسہ رکھو.... جب تک وہ نہیں چاہتا کوئی میرا کچھ نہیں کر سکتا۔"
وہ بھرپور طمانیت سے بولا۔
"اس پر تو یقین ہے لیکن.... "
"لیکن ویکن کچھ نہیں.... خبردار اگر تم نے خود کو دوبارہ پریشان کیا تو۔"
وہ تحکم سے بولا۔
"اچھا ٹھیک ہے.... "
وہ نا چاہتے ہوےُ بھی مان گئی۔
"پانچ منٹ بعد میرا لیکچر شروع ہو جاےُ گا.... "
وہ گھڑی پر نظر ڈالتی ہوئی بولی۔
"اچھا جی مطلب صرف پانچ منٹ ہیں... بہت زیادہ نہیں؟"
وہ شرارت سے بولا۔
عائشہ بے اختیار ہنس دی۔
"جی بہت زیادہ ہیں... آپ پہلے فون بند کر دینا۔"
لب دھیرے سے مسکرا رہے تھے۔
"کیوں بھئی میری مرضی جب کرنا ہوگا تبھی کروں گا میں...."
وہ تکیے سے ٹیک لگاتا ہوا بولا۔
"اچھا جی ٹھیک ہے.... "
اس نے سہولت سے ہتھیار ڈال دئیے۔
وہ جانتی تھی پانچ منٹ بعد وہ خود ہی فون بند کر دے گا۔
~~~~~~~~
"فہد تم کیا اندر چھپ کر بیٹھے ہو؟"
سامیہ اندر آتی خفا انداز میں بولی۔
"اور تمہارے ساتھ چپک کر بیٹھوں؟"
وہ جل کر بولا۔
ابتسام کے لیے قہقہ روکنا نا ممکن تھا۔
سامیہ گڑبڑا کر اسے دیکھنے لگی۔
"میرا مطلب سب نیچے ہیں اور تم یہاں اپنے کمرے میں... "
وہ سنبھل کر بولی۔
"تمہارے ساتھ بھیج دیتے ہیں کیا خیال ہے؟"
ابتسام کھڑا ہوتا ہوا بولا۔
فہد کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔
سامیہ مسکرا کر ابتسام کو دیکھنے لگی۔
"بڑی پھوپھو کو لینے جانا ہے تم اس کے ساتھ چلی جاؤ باتیں بھی کر لینا راستے میں... "
وہ فہد کو آنکھ مارتا ہوا بولا۔
فہد مٹھیاں بھینچ کر اسے گھورنے لگا۔
اس کا بس نہیں چل رہا تھا ابتسام کو کھڑے کھڑے گولی مار دے۔
"ہاں بہت اچھا آئیڈیا دیا ہے تم نے... فہد چلو چلتے ہیں؟"
وہ خوشی سے کھل اٹھی۔
ابتسام منہ پر ہاتھ رکھے مسکراہٹ دبانے کی ممکن سعی کر رہا تھا۔اور فہد کھا جانے والی نظروں سے اسے گھور رہا تھا۔
"ہاں فہد جاؤ... نیچے تمہاری امی کو بھی یہی کہہ کر آیا ہوں میں..... "
وہ جلانے والی مسکراہٹ لئے اسے دیکھ رہا تھا۔
"تجھے تو میں بعد میں دیکھ لوں گا اور تم.... چلو اب... "
وہ گاڑی کی چابیاں اٹھاتا ہوا بولا۔
جاتے جاتے ابتسام پر قہر آلود نگاہ ڈالنا وہ بھولا نہیں تھا۔
"بیسٹ آف لک.... "
وہ باہر کو ہوتا اونچی آواز میں بولا۔
فہد دانت پیستا ہوا زینے اترنے لگا۔
ابتسام قہقہ لگاتا اس کے بیڈ پر گر گیا۔
"وہ دوست ہی کیا جو اینجواےُ نہ کرواےُ....جا بیٹا جی لے اپنی زندگی.... "
وہ فہد کی تصویر کو دیکھتا ہوا بول رہا تھا۔
"آئم شیور وہ واپس آ کر سب سے پہلے میرا قتل عام کرے گا.... اس لئے مجھے یہاں سے غائب ہونا پڑے گا... "
وہ ہنستا ہوا اس کے کمرے سے نکل گیا۔
~~~~~~~~~
"کیسے ہیں آپ؟"
اسپیکر پر زنانہ آواز ابھری۔
"میں ٹھیک ہوں جمیلہ... "
خشک سا جواب آیا۔
"بھائی صاحب مجھے آپ کو عمر کے متعلق بہت اہم بات بتانی تھی... اس دن بھی پوری بات نہ ہو سکی تھی اسی لیے دوبارہ فون کیا تاکہ آپ کو سب بتا سکوں اس لڑکے کے متعلق... آپ تو کچھ بھی نہیں جانتے ان لوگوں کے بارے میں اپنی بیٹی دے کر غلطی مت کر بیٹھیے گا.... "
ووہ خاصی رازداری سے بول رہی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
"جی بتائیں میں سن رہا ہوں... "
فدا حسین کمرے میں آتے ہوئے بولے۔
"آپ کو تو معلوم ہی نہیں ہے کہ عمر کے دل میں سوراخ ہے.... ایک مریض سے آپ کی بیٹی کی شادی کرنا چاہتی ہے نسیم...."
وہ توجہ سے ایک ایک لفظ سن رہے تھے۔
"وہ تو ہر وقت بیمار رہتا ہے.... کسی شرط پر بھی اپنی بیٹی کا رشتہ اسے نہ دینا۔ عائشہ کی زندگی برباد ہو جاےُ گی... "
وہ منہ بناتی ہوئی بولیں۔
"ہمممم....یہ باتیں تو ہمیں معلوم نہ تھیں نہ ہی کسی رشتہ دار نے بتائیں... "
وہ خفا انداز میں بول رہے تھے۔
"ایسی اندر کی باتیں کوئی بھی نہیں بتاےُ گا آپ کو... میں تو خیر خواہ ہوں آپ کی اور آپ کی بچی کی تبھی یہ سب پہلے ہی بتا رہی تاکہ بعد میں پچھتانا نہ پڑے۔"
"اچھا تو پھر مجھے ان کے گھر کی ساری خبریں دوں گی تم؟"
وہ پر سوچ انداز میں بولے۔
"ہاں ہاں کیوں نہیں.... لیکن پیسے لوں گی میں اس کام کے۔"
وہ سیدھا مدعے پر آئی۔
"ہاں ہاں ٹھیک ہے.... پیسے مل جائیں گے تمہیں لیکن مجھے ہر خبر چائیے اس گھر کی.... چھوٹی سے چھوٹی, بڑی سے بڑی۔"
ہنکار بھرتے ہوئے انہوں نے فون بند کر دیا۔
"عمر کے دل میں سوراخ ہے آج تک کسی اور نے کیوں نہیں بتایا؟"
وہ فون کو گھورتے ہونے سوچنے لگی۔
"خیر یہ لوگ کچھ بھی کر لیں... یہ شادی تو میں نہیں ہونے دوں گا پھر چاہے عائشہ کو مارنا پڑے یا عمر کو... "
وہ آگ بگولہ ہو گئے۔
~~~~~~~~
"امی یہاں بیٹھیں اور مجھے بتائیں اس دن صبیحہ آنٹی نے کیا کہا تھا آپ کو؟"
وہ نسیم بی بی کے ہاتھ پکڑے بول رہا تھا۔
"کیا ہو گیا بیٹا؟"
وہ اسے دیکھتی فکرمندی سے بولیں۔
"پلیز مجھے بتائیں نہ... انہوں نے کیا جواب دیا تھا آپ کو؟"
وہ بے چینی سے گویا ہوا۔
"اس دن تمہیں سب بتایا تو تھا جو گفتگو ہوئی ان سے.... "
وہ بغور اس کا چہرہ دیکھ رہی تھیں۔ جہاں پریشان کا عنصر نمایاں تھا۔
"کیا آنٹی نے کہا تھا کہ عائشہ کا رشتہ میرے ساتھ کریں گیں؟ آپ کو یقین ہے؟ ایسا ہی کہا تھا انہوں نے؟"
وہ جھنجھلا کر بولا۔
"ہاں عمر.... انہوں نے مجھے بہت بار تسلی دی اور یقین دلایا تھا کہ ہمیں ہی رشتہ دیں گیں عائشہ کا.... "
وہ اس کے رخسار پر ہاتھ رکھے نرمی سے بول رہی تھیں۔
"اچھا... لیکن عائشہ تو بتا رہی تھی کہ انکل بہت ناراض ہیں... امی وہ تو حامی نہیں بھر رہے اس رشتے کے لیے۔"
وہ تڑپ کر انہیں دیکھنے لگا۔
"میرے علم میں یہ بات نہیں تھی.... لیکن تم فکر مت کرو میں صبیحہ کو فون کروں گی اور معلوم کروں گی اس سے...."
وہ نرم لہجے میں کہتی اسے تسلی دے رہیں تھیں۔
"نہیں فون پر نہیں... "
وہ نفی میں سر ہلاتا ہوا بولا۔
"پھر؟"
وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھیں۔
"امی آپ ان کے گھر جائیں... اور بات کریں ہمارے رشتے کی۔"
عمر کی آنکھوں میں کھو دینے کا خوف تیر رہا تھا۔
"ٹھیک ہے تم پریشان مت ہو... میں جاؤں گی اور مثبت جواب ہی لاؤں گی۔"
وہ دھیرے سے مسکرانے لگیں۔
نسیم بی بی اپنے بیٹے کو اس حال میں دیکھ نہیں سکتی تھی۔
"کھانا کھایا تم نے؟"
وہ کھڑی ہوتی نرمی سے استفسار کرنے لگیں۔
"نہیں... "
وہ کسی سوچ میں گم تھا۔
"اچھا تم اویس کو بھی بلا لو... میں لے کر آتی ہوں...."
وہ اس کے بالوں میں بوسہ دیتی ہوئی بولیں۔
عمر چاہ کر بھی مسکرا نہ سکا۔
"کیا آنٹی نے جھوٹ بولا تھا اس دن امی سے؟"
وہ جیب سے فون نکالتا ہوا بڑبڑایا۔
"خیر جو بھی تھا... اب امی جائیں گے تو ہر چیز صاف ہو جاےُ گی... "
وہ اثبات میں سر ہلاتا اویس کے کمرے کی جانب چل دیا۔
~~~~~~~~
"یہ کس مصیبت میں ڈال دیا ہے ابتسام تم نے مجھے...."
وہ کوفت سے کہتا سامنے دیکھنے لگا۔
"الله پوچھے گا تجھے... بدتمیز انسان... "
اس کا غصہ بڑھتا جا رہا تھا۔
"ایک یہ ڈرامے باز میرے پیچھے پڑی رہتی ہے... پتہ نہیں عقل کس کو بیچ کر آئی ہے جو سمجھ نہیں آتی اسے۔"
وہ ہنکار بھرتا سامنے سے آتی سامیہ کو دیکھنے لگا۔
"بیوقوف انسان... "
وہ نخوت سے سر جھٹک کر دوسری سمت دیکھنے لگا۔
"پھوپھو تیار ہیں... چلیں؟"
سامیہ مسکراتی ہوئی سامنے آئی۔
"نہیں اب میرے مرنے کا انتظار کرو.... "
وہ تپ کر کہتا کھڑا ہو گیا۔
شہناز پیچھے ہونے کے باعث اس کی آواز سن نہ سکی۔
"الله نہ کرے... فہد تم ایسی باتیں کیوں کرتے ہو؟"
وہ حونق زدہ سی اسے دیکھ رہی تھی۔
"کیا تم اپنی بکواس بند کر سکتی ہو کچھ دیر کے لیے؟"
وہ تمیز کے ہر دائرے کو پار کرتا ہوا بولا۔
سامیہ لب بھینچ کر دروازے کو دیکھنے لگی۔
"نوازش...."
وہ جل کر کہتا دروازے کی جانب بڑھ گیا۔
"پتہ نہیں ہر وقت منہ میں مرچیں دباےُ رکھتا ہے یہ... "
وہ منمناتی ہوئی شہناز کا ہاتھ پکڑے چلنے لگی۔
~~~~~~~~
"کہاں سے آ رہی ہو؟"
عائشہ برقع اتار رہی تھی جب صبیحہ بیگم کی آواز سنائی دی۔
"امی بھول گئیں آپ؟ میری سپوکن انگلش کی کلاس ہوتی ہے... "
وہ حیران ہوئے بنا نہ رہ سکی۔
"اچھا... ہاں... بس یاد ہی نہیں رہتا آج کل تو کچھ۔"
وہ سر پر ہاتھ مارتی ہوئی بولیں۔
"ابو کہاں ہیں؟"
آواز دم بخود مدھم ہو گئی۔
"کمرے میں ہیں... "
وہ سپاٹ انداز میں بولیں۔
"مریم نظر نہیں آ رہی... وہ بھی ابو کے پاس بیٹھی ہے کیا؟"
وہ خالی کمرے میں نگاہ دوڑاتی ہوئی بولی۔
"ہاں سب اُدھر ہی ہیں... "
وہ سانس خارج کرتی ہوئیں بولیں۔
"میں چلی جاؤں یا نہیں؟"
آنکھوں میں خوف تیر رہا تھا۔
"ہاں موڈ تو اچھا ہی لگ رہا ہے آج ان کا... چلی جاؤ۔ میں بھی آ رہی ہوں بس... "
وہ باورچی خانے کی جانب بڑھتی ہوئی بولیں۔
عائشہ نے سلیپر پہنی اور کمرے سے باہر نکل آئی۔
دل کی دھڑکن معمول سے بڑھ گئی۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا رہی تھی۔
پیشانی پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں نمودار ہونے لگیں۔
اس وقت وہ سادہ سی سیاہ شلوار قمیض میں ملبوس تھی۔ بال کیچر کی زد میں تھے۔ صاف رنگت پر کپکپاتے گلابی ہونٹ اسے مزید دلکش بنا رہے تھے۔ سیاہ بڑی بڑی آنکھوں میں خوف کی لکریں تھیں۔
ہمت کرتی ہوئی وہ اندر آ ہی گئی۔
وہ بنا آہٹ پیدا کئے صوفے پر ٹک گئی۔
جونہی حسین صاحب کی نگاہ عائشہ پر پڑی چہرے پر ناگواری در آئی۔
"تم اگر سوچتی ہو نہ کہ اس بے غیرت سے تمہاری شادی ہو جاےُ گی تو ایسا ہرگز نہیں ہوگا... میری یہ بات اپنے دماغ میں بٹھا لو... مجھے جس حد تک جانا پڑا میں جاؤں گا۔"
وہ عائشہ کو دیکھتے پھر سے شروع ہو گئے۔
آنکھیں پھر سے نمکین پانیوں سے لبریز ہو گئیں۔
عائشہ نے سر جھکا لیا۔
صبیحہ بیگم کے کھانا لگاتے ہاتھ کپکپانے لگے۔
انہیں عائشہ پر ترس آنے لگا تھا۔
"جیسے تیسے کر کے اگر تم دونوں نے شادی کر بھی لی تو ایک بات یاد رکھنا میں تمہارا گھر کبھی بسنے نہیں دوں گا۔"
وہ ہنکار بھرتے اسے دیکھنے لگی جو خاموشی سے انہیں سن رہی تھی۔
"تمہارا گھر میں خود برباد کروں گا تم دیکھنا....اولاد نہیں ہونے دوں گا تمہیں...کبھی خوش نہیں رہنے دوں گا تمہیں اس.....انسان کے ساتھ۔" جان سے مار دوں گا اس عمر کو... دیکھنا تم کیا حال کرتا ہوں اس کا میں۔"
جب جب وہ اپنے باپ کے منہ سے گالیاں سنتی دل چاہتا تھا زمین پھٹ جاےُ اور وہ اندر دھنس جاےُ۔
ان کا ایک ایک لفظ عائشہ کے دل پر کاری ضرب لگا رہا تھا۔
وہ تھک رہی تھی ضبط کرتی کرتی۔
کوشش کے باوجود دو موتی اس کی آنکھوں سے ٹوٹ کر جھولی میں آ گرے۔
"کہاں جا رہی ہو عائشہ؟"
اسے اٹھ کر جاتا دیکھ کر صبیحہ بیگم بول اٹھیں۔
"امی وہ اسائنمنٹ بنانی ہے مجھے... "
وہ نظریں ملاتے بغیر بول رہی تھی۔
آواز رونے کی چغلی کھا رہی تھی۔
کہہ کر وہ رکی نہیں اور کمرے سے باہر نکل گئی۔
"جاتی ہے تو جاےُ... تمہیں کیا... "
وہ قہر آلود نظروں سے صبیحہ بیگم کو دیکھ رہے تھے۔
"چلو بچو کھاؤ تم لوگ... "
وہ سہم کر بچوں کو دیکھنے لگیں۔
عائشہ زمین پر بیٹھی تھی۔
کمرے میں صرف اس کی سسکیاں سنائی دے رہی تھیں۔
"عائشہ میری بچی.... "
صبیحہ بیگم اس کے پاس بیٹھتی ہوئی بولیں۔
"امی آپ مجھے بتائیں؟ کیا میں جو کہہ رہی ہوں اتنا غلط ہے؟ ابو اس قصبے کے رواج دیکھ رہے ہیں,,,برادری سے باہر نہیں کرنا چاہتے لیکن ایک ایسے انسان سے میری شادی کرنے کو تیار ہیں جس کی عمر چالیس ہے,,, ہر غلط کام میں وہ ملوث ہے,,,تعلیم سے تو دور دور تک اس کا کوئی تعلق نہیں۔"
وہ سرخ انگارہ بنی آنکھیں اٹھا کر انہیں دیکھ رہی تھی۔
"مان جائیں گے تمہارے ابو... یہ وقتی غصہ ہے ان کا... تم پریشان مت ہو۔"
وہ شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھتی بول رہی تھیں۔
"امی الله گواہ ہے میرے بس میں نہیں ہے ورنہ میں یہ ضد نہ کرتی... عمر میرے دل میرے دماغ میں اس طرح ہے کہ میں چاہ کر بھی اسے نکال نہیں سکتی۔ میں کیسے کروں یہ سب بتائیں؟ میں مجبور ہوں امی بہت مجبور ہوں... آصف میں کوئی ایک اچھائی بھی ہو تو مجھے بتائیں... "
وہ سوں سوں کرتی استفسار کرنے لگی۔
"تم ٹھیک کہہ رہی ہو... میں اپنی بچی کو ایسے انسان کے حوالے نہیں کروں گی۔ تمہارے ابو سے بات کروں گی تم رونا بند کرو اب... انہوں نے سن لیا تو پھر سے شروع ہو جائیں گے۔ بچوں کا بھی خیال نہیں کرتے وہ کیا اثر پڑے گا ان پر..."
وہ تاسف سے کہتی کمرے سے باہر نکل گئیں۔
عائشہ اشک بہاتی دروازے کو دیکھنے لگی۔
"کاش ابو سمجھ جائیں... میرے یہ آنسو انہیں نرم کر دیں۔"
وہ کرب سے آنکھیں میچ کر بولی۔
~~~~~~~~
"فہد کے کمرے میں بچوں نے گند پھیلا دیا ہے وہ صاف کر دو تم پھر چلی جانا.... "
طلعت بیگم اسپیکر پر ہاتھ رکھے اسے کہہ کر پھر سے فون سننے لگیں۔
رانیہ سرد آہ بھرتی انہیں دیکھنے لگی۔
"مجھ سے پوچھا بھی نہیں کہ گھر جا رہی ہو تو کام تو نہیں.... "
وہ نفی میں سر ہلاتی زینے چڑھنے لگی۔
"پیسے تو صرف امی کے کام کرنے کے دیتے ہیں یہ... پھر مجھے کیوں ہر بار بلا لیتے ہیں... "
وہ سخت خفا دکھائی دے رہی تھی۔
"اتنا بڑا گھر ہے گاڑیاں ہیں پھر بھی تنخواہ دیتے وقت ان کے کلیجے منہ کو آتے ہیں... "
وہ بڑبڑاتی ہوئی کمرے میں آ گئی۔
کمرے کا دروازہ کھولا تو اندر کی ہر شے بکھری ہوئی تھی۔
کشن زمین ہر گرے تھے۔
قالین پر بوتل اور سنیکس گرے ہوئے تھے۔
ڈریسنگ ٹیبل کی ہر چیز منتشر تھی۔
"توبہ.... کمرے کا کیا حال کر دیا ہے ان بچوں نے....."
وہ سر پر ہاتھ مارتی ہوئی اندر آ گئی۔
"ان کے آنے سے پہلے پہلے یہ سب صاف کر کے مجھے جانا ہوگا... جتنے غصے میں وہ آج تھے پہلے کبھی نہیں دیکھا..."
وہ کہتی ہوئی سرعت سے کشن اٹھانے لگی۔
دس منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ اسے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔
"تم یہاں کیا کر رہی ہو؟"
غصے سے بھری یہ آواز فہد کی تھی۔
رانیہ نے آنکھیں زور سے بند کر لیں۔
فہد کی جانب اس کی پشت تھی۔
"میری بکواس سنائی دیتی ہے تمہیں؟"
وہ تپ کر کہتا اس کے عین مقابل آ کھڑا ہوا۔
"وہ... وہ میں یہ سمیٹنے آئی تھی... "
رانیہ گھبرا کر دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔
"شٹ اپ.... "
وہ پوری قوت سے چلایا۔
"میری نظروں سے دور ہو جاؤ... مجھے نہیں پتہ میں کیا کر جاؤں تمہارے ساتھ....."
وہ طیش کے عالم میں اسے دیکھ رہا تھا۔
رانیہ نے خاموشی سے جانے میں ہی عافیت جانی۔
"پتہ نہیں کیا سمجھتے ہیں خود کو سب... "
وہ دروازہ زور سے بند کرتا ہوا چلایا۔
رانیہ چند لمحے آنکھیں میچ کر کھڑی رہی۔
پھر وقت کا احساس ہوا تو تیز تیز قدم اٹھانے لگی۔
"امی انتظار کر رہی ہوں گی میرا... "
وہ متفکر سی کہتی زینے اترنے لگی۔
~~~~~~~~
"نسیم بیگم کیسی ہیں آپ؟"
وہ فون کان سے لگاےُ عائشہ کے سامنے آ گئے۔
عائشہ بیٹھی اپنی اسائنمنٹ بنا رہی تھی۔
اس کا ہاتھ دم بخود رک گیا۔
"ہاں میں بھی ٹھیک ہوں... مجھے آپ کو بتانا تھا کہ عمر کا رشتہ آپ کہیں اور کر دیں... کیونکہ عائشہ کا رشتہ تو میں اپنی زکیہ کے بیٹے کے ساتھ ہی کروں گا۔"
وہ چبا چبا کر کہتے عائشہ کو دیکھنے لگے۔
عائشہ دم سادھے انہیں سن رہی تھی۔
ان کی باتوں سے دھڑکنیں منتشر ہو رہی تھیں۔
"امید ہے آپ سمجھ گئی ہوں گیں... "
وہ اور بھی کچھ کہہ رہے تھے لیکن عائشہ تو انہی چند لفظوں پر منجمد ہو گئی تھی۔
"سن لیا ہے نہ تم نے... تمہاری شادی عامر سے ہوگی پھر چاہے تمہاری مرضی شامل ہو یا نہ ہو... "
وہ فون بند کرتے چلانے لگے۔
"ابو میں عمر سے شادی کروں گی.... "
عائشہ نے ہمت بندھا کر آخر کہہ ہی دیا۔
لیکن اگلے لمحے رخسار پر پڑنے والا زوردار تمانچہ اسے احساس دلا گیا کہ ایسا کرنا مناسب تھا یا نہیں۔
وہ دائیں رخسار پر ہاتھ رکھے شکوہ کناں نظروں سے انہیں دیکھنے لگی۔
"دوبارہ یہ بکواس کی تو زبان کاٹ دوں گا تمہاری... برادری سے باہر میں مر کر بھی تمہاری شادی نہیں کروں گا۔"
وہ قطعیت سے کہتے فون کو دیکھنے لگے جو شور مچا رہا تھا۔
"ہاں ہیلو.... "
وہ فون کان سے لگاتے ایک قہر آلود نظر عائشہ پر ڈالتے باہر نکل گئے۔
عائشہ نے تھکے تھکے انداز میں سر تکیے پر گرا دیا۔
"اگر عمر کا رشتہ کہیں اور ہو گیا پھر....نہ... نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔"
اس سے آگے اُس سے سوچا نہ گیا۔
"وہ ایسا نہیں کریں گیں... عمر کبھی ایسا نہیں ہونے دیں گے۔"
آنسو تکیے میں جذب ہو رہے تھے۔
اذیت تھی ایک نا ختم ہونے والی جو اسے اپنے گھیرے میں لئے ہوئے تھے۔
"کیسے مٹا دوں عمر کی محبت کو... کوئی بتا دے مجھے... کیسے مٹا دوں... "
وہ بے بسی کے عالم میں گویا ہوئی۔
"کوئی نہیں سمجھتا مجھے... کوئی نہیں.... کیا مجھے خوشی مل رہی ہے یہ سب کر کے؟ مجھے مزہ آ رہا ہے کیا یہ سب کرنے میں؟ لیکن پھر بھی نہیں سمجھتے کوئی انسان جان بوجھ کر ایسا کیوں کرے گا؟ اس کے بس میں نہیں ہوتا...نہیں ہوتا انسان کے بس میں کہ وہ محبت کرنا ترک کر دے.... ایک بار جو دل کی زمین کو فتح کر لے اس کے بعد نہیں ہوتا یہ.... "
وہ اشک بہاتی بولتی جا رہی تھی۔
"کاش کوئی تو ہوتا جو سمجھتا مجھے,,, میرے جذبات کو سمجھتا.... یہ انسان کے تابع نہیں ہوتے نہیں سنتے ہماری,,,کسی کی نہیں سنتے۔"
یونہی خود کلامی کرتے کب نیند اس پر مہربان ہوئی اسے معلوم ہی نہ ہوا۔
~~~~~~~~
"عمر کو معلوم ہوا تو پریشان ہو جاےُ گا... "
نسیم بی بی متفکر سی بولیں۔
"مجھے خود ہی جا کر بات کرنا ہوگی... "
وہ کچھ توقف کے بعد بولیں۔
"ہاں یہی سہی رہے گا۔"
وہ اثبات میں سر ہلاتی کھڑی ہو گئیں۔
اتفاق سے آج فدا حسین صاحب گھر پر موجود نہ تھے۔
"میں سمجھتی ہوں آپ کی بات بھی... لیکن ابھی فلحال آپ کچھ وقت کے لئے خاموش ہو جائیں گے.... عائشہ کے ابو ابھی شادی کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔"
وہ آہستہ آہستہ بول رہی تھیں۔
"دراصل مجھے اس بات کی فکر ہے کہیں حسین صاحب عائشہ کا رشتہ.... "
"نہیں نہیں آپ بے فکر رہیں۔ عائشہ کا رشتہ تو میں آپ ہی کو دوں گی۔"
صبیحہ بیگم ان کی بات کاٹتی ہوئی بولیں۔

